Pakistan
بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی پر حکومتی موقف اور پی ٹی آئی کا ردعمل
وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو شفا ہسپتال کے بجائے پمز منتقل کرنے کا فیصلہ سیکیورٹی اداروں کا تھا جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ پی ٹی آئی نے اس عمل کو توہین عدالت قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کو عدالتی حکم کے مطابق شفا ہسپتال منتقل کیا جائے۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے واضح کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے بجائے سرکاری ہسپتال پمز منتقل کرنے کا فیصلہ مکمل طور پر سیکیورٹی اداروں کا تھا۔ انہوں نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کا سیاسی مقاصد سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ فیصلہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا۔ طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ تمام تر سیکیورٹی انتظامات شفا ہسپتال میں کیے گئے تھے اور انتظامیہ سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو کلیئر کرانے کی کوشش کی تھی، تاہم عین وقت پر سیکیورٹی اداروں کو خدشات لاحق ہوئے کہ وہ وہاں کی صورتحال کو کنٹرول نہیں کر سکیں گے۔
دوسری جانب، پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے حکومت کے اس اقدام کو عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ سپریم کورٹ نے واضح طور پر بانی پی ٹی آئی کو شفا ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا، جس پر عمل درآمد نہ کرنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے تشکیل دیا گیا میڈیکل بورڈ بھی عدالتی منشا کے مطابق نہیں ہے اور اس میں ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کو شامل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومتی اقدامات سے شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں اور پی ٹی آئی اس معاملے پر عدالتی دروازہ کھٹکھٹانے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھی اس معاملے پر اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں بانی پی ٹی آئی کو سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے درمیان ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ کیا اور انہیں مکمل طور پر صحت مند قرار دیا، جس کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ انہوں نے دہرایا کہ سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے ہی حتمی وقت پر ہسپتال کی تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا کیونکہ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے بچاؤ کے لیے بروقت فیصلے کریں۔
ادھر بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ خان نے پمز ہسپتال منتقلی کے عمل پر سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ انہیں اور ڈاکٹر فیصل سلطان کو اڈیالہ جیل بلایا گیا تھا لیکن وہاں پہنچ کر انہیں الگ الگ کر دیا گیا اور انہیں سیکیورٹی کے نام پر پمز ہسپتال لے جایا گیا جہاں انہیں کسی بھی قسم کی شفافیت نظر نہیں آئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پورے عمل کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے ان کے سوالات کے جوابات نہیں دیے، جس سے اس پوری کارروائی کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھتے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس معاملے پر سیاسی اور قانونی کشمکش بدستور جاری ہے اور آئندہ دنوں میں اس حوالے سے مزید قانونی پیش رفت متوقع ہے۔