LIVE
Loading Breaking News...

گیپکو کی نجکاری: ترکی اور سعودی عرب سمیت 11 بڑی کمپنیوں کی دلچسپی

News Image
پرائیویٹائزیشن کمیشن کو گجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی کی نجکاری کے لیے ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے 11 اظہاریہ دلچسپی موصول ہوئے ہیں۔ ان سرمایہ کاروں میں ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے معروف کاروباری گروپس شامل ہیں۔
وفاقی حکومت کی جانب سے گجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) کی نجکاری کا عمل ایک اہم موڑ پر پہنچ گیا ہے، جہاں پرائیویٹائزیشن کمیشن کو مقامی اور بین الاقوامی سطح پر سرمایہ کاروں کی جانب سے غیر معمولی ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ گیپکو کے 51 سے 100 فیصد حصص کی خریداری اور انتظامی کنٹرول حاصل کرنے کے لیے 11 مختلف سرمایہ کاروں نے باضابطہ طور پر اظہاریہ دلچسپی (EOIs) جمع کرائے ہیں۔ ان دلچسپی لینے والی کمپنیوں میں ترکی اور سعودی عرب کی فرمز کے علاوہ پاکستان کے بڑے کاروباری گروپس بھی شامل ہیں، جو ملک کے توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے خواہش مند ہیں۔ پرائیویٹائزیشن کمیشن کے چیئرمین محمد علی کے مطابق، یہ پیش رفت پاکستان کے پاور سیکٹر میں اصلاحات کے حکومتی ایجنڈے پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاس ہے۔ ترکی کی تین معروف کمپنیاں جن میں ایکٹور الیکٹرک، جینویرا انرجی اور سینگیز انرجی شامل ہیں، نجکاری کے عمل میں پیش پیش ہیں۔ اسی طرح سعودی عرب کی الشریف کنٹریکٹنگ اینڈ کمرشل ڈویلپمنٹ کمپنی نے بھی اپنی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ مقامی سطح پر اینگرو انرجی، حب پاور ہولڈنگز، لکی سیمنٹ اور فاطمہ گروپ سمیت دیگر نمایاں نام شامل ہیں، جو اس عمل کو مزید مسابقتی بنا رہے ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ زیادہ تر سرمایہ کار گروہ اس سے قبل فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کی نجکاری کے لیے بھی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں۔ کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، گیپکو کی نجکاری کا بنیادی مقصد بجلی کی تقسیم کے نظام کو جدید بنانا، آپریشنل کارکردگی میں اضافہ کرنا اور ترسیلی نقصانات کو کم کرنا ہے۔ پرائیویٹائزیشن کا عمل شفاف اور مسابقتی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا تاکہ پاور سیکٹر کو مالی طور پر مستحکم بنایا جا سکے۔ اگلے مرحلے میں پری کوالیفائیڈ سرمایہ کاروں کو ورچوئل ڈیٹا روم تک رسائی دی جائے گی جہاں وہ تفصیلی 'ڈیو ڈیلیجنس' (due diligence) کا عمل مکمل کریں گے۔ گیپکو، فیسکو اور آئیسکو کو پاور سیکٹر کی نجکاری کے پہلے مرحلے (Batch-I) میں شامل کیا گیا ہے، جنہیں واپڈا سے الگ ہونے والی کمپنیوں میں سب سے زیادہ منافع بخش سمجھا جاتا ہے۔