World
پاکستان کے لیے ایل این جی کارگو: ایران کے ساتھ معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز سے محفوظ راستہ
تجارتی پابندیوں اور خطے میں جاری کشیدگی کے باوجود قطر سے ایل این جی کا پہلا جہاز آبنائے ہرمز سے گزر کر پاکستان کی طرف روانہ ہو گیا ہے۔ اس پیش رفت سے پاکستان میں توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانے میں بڑی مدد ملے گی۔
عالمی توانائی کی منڈی میں ایک اہم پیش رفت کے تحت پاکستان کے لیے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل کا راستہ بحال ہو گیا ہے۔ ایران کے ساتھ طے پانے والے ایک خصوصی معاہدے کے نتیجے میں پاکستان آنے والے ایک اہم ایل این جی کارگو کو آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران اس حساس آبی گزرگاہ سے گزرنے والا پہلا باضابطہ گیس کیرئیر ہے، جس سے پاکستان میں گیس کی قلت کے خدشات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ شیپ ٹریکنگ کے اعداد و شمار اور ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ جہاز تہران کی اجازت کے بعد آبنائے ہرمز کو عبور کرنے میں کامیاب رہا۔ یاد رہے کہ حالیہ کشیدگی اور ایک ٹینکر پر حملے کے بعد سے اس اہم تجارتی راستے پر بحری نقل و حرکت شدید متاثر ہو چکی تھی، جس کی وجہ سے پاکستان کو توانائی کے بحران کا خطرہ لاحق تھا۔ قطری توانائی کی کمپنی کی جانب سے بھی سپلائی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خلل سے بچا جا سکے۔ اس موقع پر ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے اس انتظام اور سفارتی کامیابی نے پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس سے نہ صرف صنعتی شعبے کو ریلیف ملے گا بلکہ گھریلو صارفین کے لیے بھی گیس کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے گی۔ حکارتی حلقوں کی طرف سے اس پیش رفت کو انتہائی خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے ملک میں مہنگے ایندھن کے متبادل اور گیس کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں ایل این جی کے مزید جہاز بھی اسی راستے سے پاکستان پہنچیں گے، جس سے ملک میں توانائی کے ذخائر مزید مستحکم ہوں گے۔