LIVE
Loading Breaking News...

امریکی اسٹاک مارکیٹ میں گراوٹ: بانڈ یلڈز اور تیل کی قیمتوں کا اثر

News Image
امریکی اسٹاک مارکیٹ کے فیوچرز میں بانڈ یلڈز اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان افراط زر کو طویل عرصے تک برقرار رکھ سکتا ہے جس سے فیڈرل ریزرو کی مانیٹری پالیسی مزید سخت ہو سکتی ہے۔
وال اسٹریٹ میں منگل کے روز امریکی اسٹاک انڈیکس فیوچرز میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی جس کی بنیادی وجہ امریکی سرکاری بانڈز پر یلڈ (شرح منافع) میں اضافہ اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کا اوپر جانا ہے۔ سرمایہ کار اس صورتحال کو تشویش کی نظر سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ یہ عوامل امریکی معیشت کے لیے طویل المدتی افراط زر کا باعث بن سکتے ہیں۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق، جب بانڈ یلڈز بڑھتی ہیں تو یہ عام طور پر اسٹاک مارکیٹ کے لیے منفی اشارہ ہوتا ہے، خاص طور پر ٹیکنالوجی سیکٹر کے لیے جس کی ویلیوایشنز پر اس کا براہِ راست دباؤ پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ بھی سرمایہ کاروں کی نیندیں اڑا رہا ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ پیداواری لاگت کو متاثر کرتا ہے جس سے افراط زر کے دباؤ کو کم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ موجودہ معاشی حالات میں، امریکی فیڈرل ریزرو پر یہ دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اپنی مانیٹری پالیسی کو مزید سخت رکھے اور شرح سود کو طویل عرصے تک بلند سطح پر برقرار رکھے۔ اگر فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کٹوتی کے امکانات کم ہوتے ہیں تو اس سے اسٹاک مارکیٹ کی ترقی کی رفتار مزید سست ہونے کا خدشہ ہے۔ ٹیکنالوجی کے شعبے میں، خاص طور پر ایسی کمپنیاں جن کی ویلیو مستقبل کی کمائی پر مبنی ہے، بانڈ یلڈز کے بڑھنے سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں۔ سرمایہ کار اب محتاط رویہ اپنا رہے ہیں اور اپنی سرمایہ کاری کو محفوظ اثاثوں کی جانب منتقل کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ مارکیٹ کے ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک افراط زر کے اعدادوشمار میں بہتری نہیں آتی اور بانڈ مارکیٹ میں استحکام نہیں آتا، تب تک امریکی اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا یہ سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ مستقبل کے حوالے سے سرمایہ کاروں کی نظریں اب فیڈرل ریزرو کے آئندہ فیصلوں اور معاشی اشاریوں پر مرکوز ہیں۔ اگر افراط زر کی شرح قابو سے باہر ہوتی ہے تو یہ نہ صرف امریکی اسٹاک مارکیٹ بلکہ عالمی معاشی استحکام کے لیے بھی چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔ فی الحال، مارکیٹ کے شرکاء کسی بھی مثبت اشارے کے منتظر ہیں جو سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کر سکے اور اسٹاکس میں دوبارہ تیزی لا سکے۔