Business
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، امریکی پالیسیوں کا اثر
عالمی منڈی میں سونے کی قیمتیں امریکی ٹریژری کے بائے بیک منصوبوں اور ڈالر کی قدر میں کمی کے باعث مسلسل تیسرے ہفتے بڑھنے کے لیے تیار ہیں۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے سونے میں دلچسپی بڑھنے سے بلین مارکیٹ میں تیزی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے اور یہ دھات مسلسل تیسرے ہفتے اپنی قدر میں اضافے کی جانب گامزن ہے۔ اس تیزی کی بنیادی وجہ امریکی ٹریژری کی جانب سے بائے بیک منصوبوں کا اعلان اور بانڈ مارکیٹ میں پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قرضوں کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات اور امریکی ڈالر کی قدر میں متواتر کمی نے سونے کی طلب کو ایک بار پھر تقویت دی ہے، جس سے سرمایہ کار محفوظ اثاثوں کی جانب راغب ہو رہے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق سونے کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ محض ایک عارضی رجحان نہیں بلکہ اس کے پیچھے مستحکم بنیادی عوامل کارفرما ہیں۔ سرمایہ کار اس وقت افراطِ زر کے خدشات اور حقیقی شرح سود میں کمی کی امیدوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکی ڈالر کا انڈیکس 99 کی سطح سے نیچے گرنے کے بعد سونے کی قیمتوں کو ایک نئی توانائی ملی ہے، جس نے بلین مارکیٹ میں تیزی کے رجحان کو مستحکم کیا ہے۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر ڈالر کی قدر میں گراوٹ کا سلسلہ جاری رہا تو سونے کی قیمتیں آنے والے دنوں میں مزید بلندیوں کو چھو سکتی ہیں۔
دوسری جانب، بانڈ مارکیٹ میں پائی جانے والی ہلچل اور معاشی استحکام کے بارے میں شکوک و شبہات نے سونے کو ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر ابھارا ہے۔ اگرچہ مہنگائی کے حوالے سے امریکی فیڈرل ریزرو کی پالیسیاں تاحال توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں، تاہم سونے کی قیمتوں میں استحکام ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ کے شرکاء معاشی حالات کے پیشِ نظر محتاط حکمتِ عملی اپنا رہے ہیں۔ تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی کا ماحول برقرار رہے گا، سونے کی طلب میں اضافہ متوقع ہے، خاص طور پر ان سرمایہ کاروں کی جانب سے جو اپنے اثاثوں کو کرنسی کی گرتی ہوئی قدر سے بچانا چاہتے ہیں۔
مستقبل کے تناظر میں دیکھا جائے تو امریکی ٹریژری کے اقدامات اور مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسیوں میں تبدیلی سونے کی قیمتوں کے تعین میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔ فی الحال، سونے کی قیمتیں 4500 ڈالر کی نفسیاتی حد سے اوپر ٹریڈ کر رہی ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ مارکیٹ کا مزاج تیزی کے حق میں ہے۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ پر گہری نظر رکھیں کیونکہ امریکی معاشی اعداد و شمار کے اعلانات سونے کی قیمتوں میں اچانک تبدیلی کا باعث بن سکتے ہیں۔