LIVE
Loading Breaking News...

جرمنی میں روسی روابط کے حامل اسلحے کے ذخیرے کی تحقیقات

News Image
جرمنی کی انٹیلی جنس ایجنسیاں جنگلات سے ملنے والے اسلحے کے ذخیرے کی تحقیقات کر رہی ہیں جس کے بارے میں شبہ ہے کہ اسے ماسکو کے ایماء پر ٹارگٹ کلنگ کے لیے چھپایا گیا تھا۔ اس حساس معاملے پر جرمن حکام کی جانب سے گہری نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ ملوث افراد کو بے نقاب کیا جا سکے۔
جرمن انٹیلی جنس ایجنسیاں گزشتہ برس جنگلات کے ایک خفیہ مقام سے برآمد ہونے والے جدید اسلحے کے ایک بڑے ذخیرے کی گہرائی سے تفتیش کر رہی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حکام کو یہ شبہ ہے کہ یہ اسلحہ بظاہر کسی بڑی سیاسی سازش یا ٹارگٹ کلنگ کے لیے جمع کیا گیا تھا، جس کے تانے بانے براہ راست ماسکو سے ملتے ہیں۔ اس انکشاف نے یورپی سیکیورٹی کے حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ یہ معاملہ روس اور مغربی ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید ہوا دے سکتا ہے۔ جرمن سیکیورٹی حکام کے مطابق، برآمد کیا جانے والا اسلحہ صرف عام نوعیت کا نہیں ہے بلکہ اس میں جدید آلات بھی شامل ہیں جو پیشہ ورانہ کارروائیوں میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ انٹیلی جنس رپورٹوں کا کہنا ہے کہ یہ اسلحہ مبینہ طور پر ماسکو کے مفادات کے لیے جرمنی کی سرزمین پر ٹارگٹ کلنگ اور سیاسی قتل و غارت کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی غرض سے چھپایا گیا تھا۔ اگرچہ ابھی تک باضابطہ طور پر کسی ملزم کے نام کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم تحقیقاتی ٹیمیں اس بات کا تعین کرنے میں مصروف ہیں کہ یہ اسلحہ کس کے ذریعے ملک میں پہنچایا گیا اور اس کے پیچھے کون سے غیر ملکی عناصر کارفرما تھے۔ جرمنی کی وفاقی تفتیشی ایجنسیاں اب اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ کیا اس کارروائی میں جرمنی میں موجود کسی مقامی نیٹ ورک نے روسی خفیہ اداروں کے ساتھ تعاون کیا ہے۔ اس واقعے نے یورپی یونین میں سیکیورٹی پروٹوکول پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جس کے بعد جرمن حکومت نے اپنی سرحدوں اور حساس تنصیبات پر نگرانی کے عمل کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ان الزامات کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ جرمن روس سفارتی تعلقات میں ایک نیا اور خطرناک موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پورے یورپی براعظم پر مرتب ہوں گے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور جلد ہی اس حوالے سے اہم پیش رفت متوقع ہے۔ سیکیورٹی حکام نے عوامی سطح پر محتاط رویہ اختیار کر رکھا ہے، لیکن پس پردہ کارروائیوں میں تیزی لائی گئی ہے تاکہ اس طرح کے مذموم عزائم رکھنے والے گروہوں کو قبل از وقت روکا جا سکے۔ جرمنی اس صورتحال کو قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دے رہا ہے اور بین الاقوامی سطح پر اتحادیوں کے ساتھ مل کر اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے پرعزم ہے۔