LIVE
Loading Breaking News...

مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کا حملہ: ہیوی مشینری تباہ

News Image
اسرائیلی آباد کاروں نے ہیبرون کے قریب واقع وادی الرخیم کی ایک سٹون کوئری میں گھس کر بھاری مشینری کو آگ لگا دی۔ اس واقعے کے نتیجے میں کوئری میں موجود قیمتی آلات اور مشینری مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے ہیبرون کے قریب ایک بار پھر کشیدگی کا واقعہ پیش آیا ہے، جہاں انتہا پسند اسرائیلی آباد کاروں نے رات کے اندھیرے میں وادی الرخیم میں واقع ایک سٹون کوئری (پتھر کی کان) پر دھاوا بول دیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق، آباد کاروں کے ایک گروہ نے کوئری میں داخل ہو کر وہاں موجود ہیوی مشینری کو نشانہ بنایا اور اسے نذرِ آتش کر دیا۔ آگ لگنے کے باعث کوئری میں موجود بھاری آلات اور دیگر سامان مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے، جس سے کاروباری مالکان کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں کی املاک اور زرعی زمینوں پر اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ وادی الرخیم کے مقامی رہائشیوں اور کوئری کے عملے نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے فلسطینی معیشت کو کمزور کرنے کی ایک منظم کوشش قرار دیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں کا مقصد فلسطینیوں کو ان کے کام کے مقامات سے دور کرنا اور خوف و ہراس کی فضا قائم کرنا ہے۔ واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد علاقے میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے جبکہ متاثرہ انتظامیہ نے اس واقعے کے خلاف باضابطہ قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد کاروں کی جانب سے ہونے والی پرتشدد کارروائیوں کا نوٹس لے۔ یاد رہے کہ ہیبرون اور اس کے نواحی علاقوں میں آئے دن اس طرح کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں، جن میں فلسطینیوں کی فصلوں، گاڑیوں اور صنعتی مقامات کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ابھی تک اسرائیلی حکام کی جانب سے اس واقعے کے ذمہ داران کی گرفتاری کے حوالے سے کوئی واضح پیشرفت سامنے نہیں آئی ہے، جس کے باعث مقامی فلسطینی آبادی میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے حملے تناؤ میں مزید اضافے کا سبب بن سکتے ہیں اور خطے میں امن کی کوششوں کو بری طرح متاثر کر سکتے ہیں۔