Pakistan
مستونگ دھماکہ: بلوچستان میں چار مزدور جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے خود کوچا میں ہونے والے ایک دھماکے اور فائرنگ کے واقعات میں مجموعی طور پر چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ پولیس اور ہسپتال حکام نے چار مزدوروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔
بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے خود کوچا میں گزشتہ رات ہونے والے ایک دھماکے اور فائرنگ کے واقعات نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق اس افسوسناک واقعے میں کم از کم چار مزدور جاں بحق اور تین افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ اسی علاقے سے دو مزید افراد کی لاشیں بھی برآمد ہوئی ہیں جنہیں مبینہ طور پر فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ رات کے آخری پہر ہوا جس کی نوعیت کے بارے میں تاحال متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، کچھ حکام اسے ڈرون حملہ قرار دے رہے ہیں تاہم حتمی تحقیقات جاری ہیں۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور جاں بحق ہونے والے افراد کی لاشوں اور زخمیوں کو نواب غوث بخش میموریل ہسپتال مستونگ منتقل کیا گیا۔ ہسپتال ذرائع نے بتایا کہ چار لاشوں پر دھماکے کے شدید زخم موجود تھے جبکہ دو لاشوں پر گولیوں کے نشانات پائے گئے ہیں۔ زخمیوں میں سے ایک شخص کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث اسے کوئٹہ کے سول ہسپتال ریفر کر دیا گیا ہے۔ جاں بحق ہونے والے چار مزدوروں کا تعلق ضلع کچھی کے علاقے بھاگ سے بتایا گیا ہے جبکہ دو نامعلوم لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
واضح رہے کہ یہ وہی علاقہ ہے جہاں گزشتہ ہفتے صوبائی وزیر داخلہ ضیاء اللہ لانگو پر ایک مسلح حملہ ہوا تھا جس میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت نو افراد زخمی ہوئے تھے۔ علاقے میں سکیورٹی کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ ماہ یہاں ایک مسافر بس پر حملے کے بعد غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو بھی لگایا گیا تھا۔ سکیورٹی ماہرین اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی رپورٹس کے مطابق بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث عوام میں شدید عدم تحفظ پایا جاتا ہے۔
پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ ایک اعلیٰ پولیس افسر نے تصدیق کی ہے کہ علاقے میں دو مبینہ دہشت گردوں کے مارے جانے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، تاہم اس بارے میں تفصیلی رپورٹ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد جاری کی جائے گی۔ حکومتی سطح پر اس واقعے کی شدید مذمت کی جا رہی ہے اور سکیورٹی حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مجرموں کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لائیں۔ مقامی انتظامیہ نے متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے جبکہ علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔