LIVE
Loading Breaking News...

ورلڈ رگبی کنکشن کیس: عدالت نے اداروں کی درخواست مسترد کر دی

News Image
برطانیہ کی عدالت نے ورلڈ رگبی اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے کھلاڑیوں کے دماغی چوٹوں سے متعلق دائر مقدمات کو خارج کرنے کی استدعا مسترد کر دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد سابق کھلاڑیوں کی جانب سے قانونی چارہ جوئی کا عمل اب عدالتی کارروائی کے اگلے مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔
برطانیہ کی عدالت نے ورلڈ رگبی اور دیگر متعلقہ کھیلوں کے اداروں کی اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے کھلاڑیوں کی جانب سے دماغی چوٹوں (کونکشن) کے حوالے سے دائر کردہ مقدمات کو خارج کرنے کی استدعا کی تھی۔ یہ فیصلہ سابق رگبی کھلاڑیوں کے لیے ایک بڑی قانونی کامیابی سمجھا جا رہا ہے جو طویل عرصے سے یہ موقف اختیار کیے ہوئے ہیں کہ کھیل کے دوران بار بار سر پر لگنے والی چوٹوں نے ان کی ذہنی صحت پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ عدالتی کارروائی کے دوران ورلڈ رگبی، رگبی فٹ بال یونین اور ویلش رگبی یونین نے یہ دلیل دی تھی کہ ان مقدمات کو مزید آگے بڑھانے کے لیے کوئی ٹھوس جواز موجود نہیں ہے اور ان کی قانونی حیثیت کمزور ہے۔ تاہم، جج نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد یہ فیصلہ سنایا کہ مقدمات کو فوری طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا اور اب ان معاملات پر باقاعدہ سماعتیں کی جائیں گی۔ اس فیصلے سے ان درجنوں کھلاڑیوں کو امید ملی ہے جو اس قانونی جنگ کا حصہ ہیں۔ متاثرہ کھلاڑیوں کا الزام ہے کہ متعلقہ اداروں نے انہیں کھیل کے دوران درپیش خطرات سے مکمل طور پر آگاہ نہیں کیا اور نہ ہی کھلاڑیوں کی حفاظت کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات کیے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے کیریئر کے دوران جن حفاظتی پروٹوکولز کی ضرورت تھی، انہیں نظر انداز کیا گیا جس کے نتیجے میں اب وہ شدید ذہنی بیماریوں اور دیگر صحت کے مسائل کا شکار ہیں۔ یہ کیس کھیلوں کی دنیا میں کھلاڑیوں کی حفاظت اور تنظیموں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ عدالتی فیصلہ نہ صرف رگبی بلکہ دنیا بھر کے دیگر کھیلوں پر بھی اثر انداز ہوگا جہاں کھلاڑیوں کی دماغی صحت اور سر کی چوٹیں ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔ کیس کے اگلے مراحل میں اب مزید شواہد پیش کیے جائیں گے اور عدالت یہ تعین کرے گی کہ آیا کھیلوں کے منتظم ادارے اپنے کھلاڑیوں کے طویل مدتی نقصان کے لیے کتنے حد تک ذمہ دار ہیں۔ اس دوران ورلڈ رگبی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ وہ عدالت کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں اور عدالتی عمل میں تعاون جاری رکھیں گے۔