LIVE
Loading Breaking News...

میڈیکل آرٹیفیشل انٹیلی جنس: ایف ڈی اے کی نئی تجاویز

News Image
امریکی ایف ڈی اے اب اس بات پر غور کر رہا ہے کہ کیا طبی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے چیٹ بوٹس کو ڈاکٹروں کی طرح اہلیت کے امتحانات سے گزرنا چاہیے۔ اس اقدام کا مقصد صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو مزید محفوظ اور قابل اعتماد بنانا ہے۔
امریکی ادارہ برائے خوراک و ادویات (FDA) نے طبی شعبے میں مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال کو منظم کرنے کے لیے ایک اہم پیشرفت کی ہے۔ ایف ڈی اے اب عوام اور ماہرین سے اس بات پر رائے طلب کر رہا ہے کہ آیا طبی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے چیٹ بوٹس اور دیگر اے آئی ماڈلز کو مارکیٹ میں لانے سے قبل ڈاکٹروں کی طرز پر اہلیت کی بنیاد پر امتحانات (competency-based tests) پاس کرنے چاہئیں۔ یہ اقدام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے کہ مریضوں کو دی جانے والی معلومات یا تشخیصات درست اور محفوظ ہوں۔ ماہرین کے مطابق، موجودہ دور میں اے آئی چیٹ بوٹس طبی مشورے دینے میں تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں، تاہم ان کی درستگی پر ہمیشہ سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ ایف ڈی اے کی تجویز ہے کہ جس طرح ایک ڈاکٹر کو پریکٹس کرنے کے لیے لائسنس اور امتحانات سے گزرنا پڑتا ہے، اسی طرح طبی اے آئی سافٹ ویئر کو بھی ایک مخصوص 'کلینیکل اہلیت' کے معیار پر پورا اترنا چاہیے۔ اگر یہ پالیسی لاگو ہوتی ہے تو کمپنیوں کو اپنے اے آئی ماڈلز کو طبی آلات کے طور پر رجسٹر کروانے سے پہلے سخت جانچ کے عمل سے گزارنا ہوگا۔ اس نئے ضابطہ کار کا مقصد ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کو روکنا اور مریضوں کی حفاظت کو ترجیح دینا ہے۔ ایف ڈی اے کا ماننا ہے کہ اے آئی الگورتھمز میں غلط معلومات فراہم کرنے کا خدشہ موجود ہوتا ہے، جسے 'ہیلسینیشن' کہا جاتا ہے۔ اس لیے اہلیت کی بنیاد پر ٹیسٹ کرنے سے اے آئی کی طبی تشخیص اور علاج کی تجاویز میں درستگی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ یہ ٹیسٹ مختلف طبی منظرناموں پر مبنی ہوں گے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ سافٹ ویئر پیچیدہ صورتحال میں کیسے ردعمل دیتا ہے۔ دوسری جانب ٹیکنالوجی کمپنیاں اس نئے ضابطہ کار پر محتاط ردعمل دے رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سخت ضوابط اے آئی کی تحقیق اور ترقی کی رفتار کو سست کر سکتے ہیں۔ تاہم، ایف ڈی اے اس بات پر بضد ہے کہ طبی شعبے میں 'کسی بھی قسم کی کوتاہی کی گنجائش نہیں ہے'۔ عوامی رائے کے بعد، ادارہ جلد ہی اس حوالے سے باضابطہ گائیڈلائنز جاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس سے طبی مصنوعی ذہانت کے مستقبل کی سمت کا تعین ہوگا۔