LIVE
Loading Breaking News...

کوانٹم اسٹاک مارکیٹ میں مندی کی لہر، ریگیٹی اور آئیون کیو کے حصص کیوں گرے؟

News Image
کوانٹم کمپیوٹنگ کے شعبے سے وابستہ معروف کمپنیوں کے شیئرز میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی ہے جس کی بنیادی وجہ امریکی ٹریژری بانڈز کی پیداوار میں اضافہ ہے۔ ماہرین کے مطابق طویل مدتی غیر منافع بخش ٹیکنالوجی اسٹاکس کے لیے بلند شرح سود انتہائی نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔
عالمی اسٹاک مارکیٹ میں حال ہی میں کوانٹم کمپیوٹنگ کے شعبے سے وابستہ کمپنیوں کے حصص میں ایک غیر معمولی گراوٹ دیکھی گئی ہے جس نے سرمایہ کاروں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ریگیٹی کمپیوٹنگ کے حصص میں 7 فیصد، آئیون کیو میں 6 فیصد اور ڈی-ویو میں 4 فیصد تک کی تنزلی ریکارڈ کی گئی ہے۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ گراوٹ کسی ایک خاص واقعہ کا نتیجہ نہیں بلکہ مارکیٹ کے وسیع تر مالیاتی دباؤ کا شاخسانہ ہے۔ اس فروخت کی بنیادی وجہ امریکی ٹریژری بانڈز کی پیداوار میں ہونے والا اضافہ ہے جو اب 4.71 فیصد کی سطح پر پہنچ چکی ہے۔ واضح رہے کہ کوانٹم کمپیوٹنگ جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کمپنیاں اکثر طویل مدتی منصوبوں پر کام کرتی ہیں اور فی الحال زیادہ تر غیر منافع بخش ہیں۔ مالیاتی اصطلاح میں ایسی کمپنیوں کو 'لانگ ڈیوریشن' اثاثہ جات سمجھا جاتا ہے، جن کی قدر پر شرح سود میں اضافے کا براہ راست اثر پڑتا ہے۔ جب امریکی ٹریژری بانڈز پر ریٹرن بڑھتا ہے، تو سرمایہ کاروں کے لیے ٹیکنالوجی کے خطرناک اور غیر منافع بخش اسٹاکس میں سرمایہ کاری کرنے کے بجائے بانڈز زیادہ پرکشش ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں کوانٹم اسٹاکس سے سرمایہ انخلا کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ اگرچہ QTUM انڈیکس نے رواں سال کے آغاز سے اب تک 37 فیصد تک کی نمایاں ترقی حاصل کی تھی، لیکن حالیہ دنوں میں ہونے والی فروخت نے اس ترقی کو ایک بڑے چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔ بہت سے ماہرین کا یہ خیال ہے کہ یہ گراوٹ درحقیقت مارکیٹ کی ایک اصلاحی کارروائی ہے، جہاں سرمایہ کار اپنی حکمت عملیوں کو دوبارہ ترتیب دے رہے ہیں۔ طویل عرصے تک منافع نہ دینے والی کمپنیوں کے لیے بلند شرح سود کے ماحول میں سرمایہ اکٹھا کرنا اور اپنی ساکھ برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ کمپنیاں کس طرح اپنی مالیاتی حکمت عملی کو تبدیل کرتی ہیں، یہ دیکھنا باقی ہے۔ مجموعی طور پر، ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد اب انتہائی محتاط نظر آ رہے ہیں۔ جب تک شرح سود کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار رہے گی، تب تک کوانٹم کمپیوٹنگ جیسی 'ہائی گروتھ' مگر 'ہائی رسک' کمپنیوں کے شیئرز میں اتار چڑھاؤ متوقع ہے۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے پورٹ فولیو کو متنوع بنائیں اور مارکیٹ کے بدلتے ہوئے رجحانات، خاص طور پر فیڈرل ریزرو کی پالیسیوں پر گہری نظر رکھیں۔