LIVE
Loading Breaking News...

فرانس میں تارکین وطن اور پولیس کا تصادم، انگلش چینل عبور کرنے کی کوشش ناکام

News Image
شمالی فرانس کے ساحلی علاقے میں تارکین وطن نے کشتی کے ذریعے انگلش چینل عبور کر کے برطانیہ جانے کی کوشش کی جسے فرانسیسی پولیس نے ناکام بنا دیا۔ اس کارروائی کے دوران پولیس اور تارکین وطن کے درمیان شدید جھڑپیں بھی ہوئیں۔
شمالی فرانس کے ساحلی علاقوں میں جمعہ کے روز اس وقت صورتحال کشیدہ ہو گئی جب تارکین وطن کے ایک گروپ نے چھوٹی کشتی کے ذریعے انگلش چینل عبور کر کے برطانیہ پہنچنے کی کوشش کی۔ فرانسیسی بارڈر پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس کشتی کو روک لیا، جس کے بعد تارکین وطن اور اہلکاروں کے درمیان تلخ کلامی اور جھڑپیں دیکھنے میں آئیں۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد سمندری راستے سے غیر قانونی طور پر برطانیہ میں داخل ہونے کی منصوبہ بندی کر رہی تھی۔ واقعے کی تفصیلات کے مطابق فرانسیسی بارڈر پولیس کے دستوں نے سمندر میں گشت کے دوران مشکوک کشتی کو روکا تو وہاں موجود افراد نے مزاحمت شروع کر دی۔ اس دوران دونوں فریقین کے درمیان تصادم ہوا، جس کے نتیجے میں علاقے میں کچھ دیر کے لیے افراتفری کا عالم رہا۔ فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں کا مقصد انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورکس کو توڑنا اور سمندر میں انسانی جانوں کو خطرے سے بچانا ہے۔ پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر صورتحال کو قابو میں کیا اور کئی افراد کو حراست میں لے لیا۔ واضح رہے کہ شمالی فرانس کا ساحلی علاقہ طویل عرصے سے ان تارکین وطن کے لیے ایک مرکز بنا ہوا ہے جو یورپ کے مختلف ممالک سے آ کر یہاں سے برطانیہ جانے کا راستہ تلاش کرتے ہیں۔ یہ غیر قانونی سفر نہ صرف خطرناک ہے بلکہ سمندر میں لہروں کی شدت اور کشتیوں کی ناقص حالت کے باعث اکثر حادثات کا سبب بھی بنتا ہے۔ برطانوی اور فرانسیسی حکومتیں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مسلسل رابطے میں رہتی ہیں، تاہم تارکین وطن کی جانب سے یہ کوششیں اب بھی جاری ہیں جو بین الاقوامی سطح پر ایک اہم انسانی اور سیاسی چیلنج بن چکی ہیں۔ فی الحال، حراست میں لیے گئے تارکین وطن سے مزید پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ اس کارروائی کے پیچھے موجود سمگلرز اور دیگر نیٹ ورکس کا پتہ لگایا جا سکے۔ مقامی انتظامیہ نے علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے تاکہ آئندہ اس قسم کے واقعات کو پیش آنے سے روکا جا سکے۔ اس پورے معاملے پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ برطانوی حکومت اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے فرانسیسی حکام کے ساتھ قریبی تعاون پر زور دے رہی ہے۔