World
نیوزی لینڈ کے وزیرِ خارجہ ونسٹن پیٹرز کا متنازع بیان اور شدید عوامی ردعمل
نیوزی لینڈ کے وزیرِ خارجہ ونسٹن پیٹرز نے چینی نژاد رکنِ پارلیمنٹ کو اپنے ملک واپس جانے کا کہہ دیا جس پر انہیں شدید سیاسی اور عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس متنازع بیان کی وجہ سے ملک میں نسل پرستی اور سیاسی اقدار پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
نیوزی لینڈ کے وزیرِ خارجہ ونسٹن پیٹرز کو اس وقت ملک بھر میں شدید تنقید اور سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جب انہوں نے ایک چینی نژاد رکنِ پارلیمنٹ کے خلاف انتہائی متنازع الفاظ استعمال کیے۔ ونسٹن پیٹرز کی جانب سے رکنِ پارلیمنٹ کو مبینہ طور پر 'اپنے ملک واپس جانے' کا مشورہ دیے جانے کے بعد ملک کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور مختلف جماعتوں کے رہنماؤں نے اس بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے بیانات سے نہ صرف پارلیمانی روایات کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ معاشرے میں نسلی تقسیم اور تعصبات کو بھی ہوا ملتی ہے۔
اس واقعے کے بعد نیوزی لینڈ کی اپوزیشن جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے بھی کڑی تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک ذمہ دار سرکاری عہدے دار کی طرف سے اس قسم کی زبان کا استعمال کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب معاشرے کے تمام طبقات کو متحد رکھنے کی ضرورت ہے۔ متاثرہ رکنِ پارلیمنٹ اور ان کے حامیوں نے بھی اس بیان پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور وزیرِ خارجہ سے اپنے الفاظ واپس لینے اور معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس معاملے کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔
دوسری جانب، ونسٹن پیٹرز اور ان کے حامیوں کی طرف سے اس تنازع پر وضاحتیں دینے کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے، تاہم عوامی سطح پر پایا جانے والا غصہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ سوشل میڈیا اور عام شہریوں کی جانب سے بھی اس بیان کو انتہائی ناپسندیدہ قرار دیا جا رہا ہے اور نیوزی لینڈ کے کثیر الثقافتی معاشرے کی اقدار کے منافی سمجھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ تنازع آنے والے دنوں میں ملکی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے اور حکومت کو اس معاملے پر سنجیدہ نوعیت کے سیاسی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔