World
یوکرین کی جانب سے روسی کارٹون ماشا اینڈ دی بیئر پر پابندی کا اعلان
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایک سرکاری حکم نامے کے تحت مشہور روسی کارٹون سیریز ماشا اینڈ دی بیئر کے پروڈیوسرز پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ حکومتی مؤقف کے مطابق یہ کارٹون سیریز مبینہ طور پر روسی پروپیگنڈے کو فروغ دینے کا ذریعہ بنی ہوئی ہے۔
یوکرین کی حکومت نے ایک غیر معمولی اقدام اٹھاتے ہوئے عالمی سطح پر مقبول بچوں کے روسی کارٹون ’ماشا اینڈ دی بیئر‘ کے پروڈیوسرز پر سخت پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی جانب سے دستخط کیے گئے ایک صدارتی فرمان میں ان پابندیوں کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت اس کارٹون کو بنانے والی کمپنیوں اور متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد یوکرین میں روسی ثقافتی اثر و رسوخ کو محدود کرنا اور ماسکو کی جانب سے کیے جانے والے مبینہ نظریاتی پروپیگنڈے کا راستہ روکنا ہے۔
یوکرینی حکام کا ماننا ہے کہ یہ کارٹون سیریز صرف بچوں کی تفریح کے لیے نہیں، بلکہ اسے ایک سافٹ پاور ٹول کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ روسی نظریات کو فروغ دیا جا سکے۔ حکومتی ترجمانوں کے مطابق، کارٹون کے کرداروں کے ذریعے یوکرین کے خلاف جاری کشیدگی کے دوران ایسے بیانیے کو عام کیا جا رہا ہے جو یوکرین کی خودمختاری کے منافی ہیں۔ اس پابندی کے بعد یوکرین کے ٹیلی ویژن چینلز اور آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر اس کارٹون کی نمائش پر سخت قدغن لگا دی گئی ہے۔
ماشا اینڈ دی بیئر، جو کہ اپنی بے پناہ مقبولیت کی وجہ سے دنیا بھر کے بچوں میں پسند کیا جاتا ہے، اب یوکرین اور روس کے درمیان جاری سیاسی و عسکری تنازع کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یوکرین کی جانب سے ثقافتی میدان میں یہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کیئف اب ہر اس چیز کا بائیکاٹ کرنے پر کمر بستہ ہے جس کا تعلق براہ راست یا بالواسطہ روسی ریاست یا اس کے بیانیے سے جڑا ہوا ہے۔
اس پابندی کے بعد عالمی سطح پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا بچوں کی تفریحی صنعت کو سیاسی تنازعات سے دور رکھا جانا چاہیے یا پھر ثقافتی مصنوعات بھی جنگ کا حصہ ہیں۔ جہاں ایک طرف روس نے اس فیصلے کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے، وہیں یوکرین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شہریوں بالخصوص نئی نسل کو روسی پروپیگنڈے سے محفوظ رکھنے کے لیے ایسے اقدامات اٹھانے کا ہر ممکن حق رکھتا ہے۔ یہ فیصلہ آنے والے وقتوں میں دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی محاذ پر مزید تلخیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔