LIVE
Loading Breaking News...

امریکی بنیادی ڈھانچے پر اے آئی مالویئر کا حملہ

News Image
سائبر مجرمان مصنوعی ذہانت سے لیس جدید مالویئر کے ذریعے امریکہ کے توانائی، پانی اور زرعی شعبوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ حملہ خاص طور پر سیمنز ایس 7 سیریز کے کنٹرولرز کو متاثر کر رہا ہے جو قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔
امریکی قومی سلامتی کے حکام اور سائبر سیکیورٹی ماہرین نے ایک انتہائی خطرناک صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے جس میں مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ مالویئر کا استعمال کرتے ہوئے امریکہ کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ سائبر حملے خاص طور پر توانائی، پانی کی فراہمی اور زرعی شعبوں میں فعال ہیں، جہاں ہیکرز اپنے مقاصد کے حصول کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس حملے میں سیمنز ایس 7 سیریز (Siemens S7) کے پروگرامیبل لاجک کنٹرولرز کو ہدف بنایا گیا ہے، جو صنعتی آٹومیشن کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مالویئر روایتی وائرس کے برعکس اپنی کارکردگی اور صلاحیتوں میں مسلسل ارتقا پذیر ہے، جس کی وجہ سے اس کا پتہ لگانا اور اسے روکنا سیکورٹی ایجنسیوں کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہیکرز اب مصنوعی ذہانت کے ان ماڈلز کا استعمال کر رہے ہیں جو خودکار طریقے سے سیکیورٹی سسٹمز کی کمزوریوں کو تلاش کرتے ہیں اور ان میں نقب لگانے کے لیے نئے راستے بناتے ہیں۔ یہ 'ارتقا پذیر' صلاحیتیں اس حملے کو ماضی کے سائبر حملوں سے کہیں زیادہ خطرناک اور وسیع پیمانے پر بناتی ہیں۔ ان اہم تنصیبات پر حملے کے نتیجے میں نہ صرف بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ہے بلکہ پانی اور زراعت جیسے حساس شعبے بھی شدید خطرے کی زد میں ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کوئی وقتی واقعہ نہیں بلکہ ایک باقاعدہ 'ایکٹو تھریٹ' ہے جو اس وقت جاری ہے اور صنعتی نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر، امریکی حکومت نے ملک بھر کی اہم تنصیبات کے لیے فوری طور پر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ سائبر سیکیورٹی فرمز اور سرکاری اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے نیٹ ورکس کی نگرانی کو مزید سخت کریں اور سیمنز کنٹرولرز کے لیے فوری طور پر حفاظتی پیچز جاری کریں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ان حملوں کو جلد نہ روکا گیا تو یہ قومی معیشت اور عوامی زندگی کے معمولات کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر سائبر قوانین کو مزید سخت بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔