World
آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کا تعطل اور ماحولیاتی خطرات
آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث پھنسے 1500 سے زائد تجارتی بحری جہاز سمندری حیات کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان جہازوں کے بیلٹ واٹر کے ذریعے غیر ملکی جانداروں کا پھیلاؤ عالمی ایکو سسٹم کو تباہ کر سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز، جو دنیا کے اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے، اس وقت ایک غیر متوقع ماحولیاتی خطرے کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ حالیہ کشیدگی اور جغرافیائی سیاسی صورتحال کے پیش نظر یہاں 1500 سے زائد بڑے تجارتی بحری جہاز پھنس کر رہ گئے ہیں۔ ماہرین ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ اس طویل تعطل کے نتیجے میں دنیا ایک ایسے 'بایو انویژن' یعنی حیاتیاتی حملے کا سامنا کر سکتی ہے جو سمندری ایکو سسٹم کو مستقل بنیادوں پر نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ان جہازوں کے اندر موجود 'بیلٹ واٹر' (Ballast Water) کو اس خطرے کی اصل جڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق بحری جہاز اپنے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے بڑی مقدار میں پانی اپنے اندر ذخیرہ کرتے ہیں جسے بیلٹ واٹر کہا جاتا ہے۔ جب یہ جہاز طویل عرصے تک ایک ہی مقام پر کھڑے رہتے ہیں، تو ان میں موجود مقامی سمندری جاندار اور پودے اس پانی میں پلتے رہتے ہیں اور اپنی تعداد میں اضافہ کرتے ہیں۔ جب یہ جہاز دوبارہ حرکت کرتے ہیں اور مختلف بندرگاہوں پر پہنچ کر یہ پانی خارج کرتے ہیں، تو یہ غیر ملکی جاندار نئی جگہوں کے قدرتی ماحول میں شامل ہو جاتے ہیں۔ یہ جاندار اکثر نئے ماحول میں تیزی سے پھیلتے ہیں اور وہاں کی مقامی حیات کو ختم کرنے کا باعث بنتے ہیں، جسے سائنسدان 'سپر سپریڈر ایونٹ' کا نام دے رہے ہیں۔
ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی اور دیگر عالمی تحقیقی اداروں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز صرف تیل کی ترسیل کا راستہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک بھرپور اور زندہ ایکو سسٹم بھی ہے۔ یہاں جہازوں کا اس قدر بڑی تعداد میں جمع ہونا نہ صرف سمندری حیاتیاتی تنوع کو متاثر کر رہا ہے بلکہ دنیا بھر کی ساحلی معیشتوں کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔ اگر ان جانداروں نے دیگر سمندری علاقوں میں اپنی کالونیاں بنا لیں، تو اس سے مچھلیوں کے ذخائر اور ساحلی ماحولیاتی نظام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
عالمی برادری اور سمندری قوانین کے نگران اداروں کو اب اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ماحولیاتی ماہرین کا مطالبہ ہے کہ پھنسے ہوئے جہازوں کے عملے کے لیے خصوصی پروٹوکولز جاری کیے جائیں تاکہ بیلٹ واٹر کے اخراج کو کنٹرول کیا جا سکے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ تکنیکی و سیاسی تعطل عالمی سطح پر ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات دہائیوں تک برقرار رہ سکتے ہیں۔