LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیلی فورسز اور آباد کاروں کا حملہ: مغربی کنارے میں دو فلسطینی شہید

News Image
مقبوضہ مغربی کنارے میں پیش آنے والے الگ الگ واقعات میں قابض اسرائیلی فورسز اور یہودی آباد کاروں کی فائرنگ سے دو فلسطینی شہید ہو گئے۔ شہدا میں ایک سترہ سالہ نوجوان اور اٹھاون سالہ شخص شامل ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ نہ تھم سکا، جہاں ایک ہی روز پیش آنے والے دو الگ الگ واقعات میں اسرائیلی قابض فورسز اور انتہا پسند یہودی آباد کاروں نے فائرنگ کر کے دو فلسطینی شہریوں کو شہید کر دیا ہے۔ مقامی ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق ان واقعات نے علاقے میں شدید غم و غصے کی لہر پیدا کر دی ہے اور کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ مغربی کنارے میں بڑھتے ہوئے ایسے واقعات بین الاقوامی برادری کے لیے تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق پہلا واقعہ اس وقت پیش آیا جب یہودی آباد کاروں نے ایک نہتے فلسطینی نوجوان کو گولیوں کا نشانہ بنایا۔ جاں بحق ہونے والے 17 سالہ نوجوان کی شناخت کریم سند شلالدہ کے نام سے ہوئی ہے۔ مبینہ طور پر آباد کاروں نے بلا اشتعال فائرنگ کی جس کے نتیجے میں نوجوان موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ اس واقعے نے ایک بار پھر مغربی کنارے میں آباد کاروں کی طرف سے فلسطینی شہریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی تصویر پیش کر دی ہے، جہاں اکثر آباد کار کسی قسم کی قانونی کارروائی کے خوف کے بغیر فلسطینیوں پر حملے کرتے ہیں۔ دوسری جانب، ایک الگ واقعے میں اسرائیلی قابض فوج نے ایک 58 سالہ فلسطینی شہری فتحی کاظم کو گولی مار کر شہید کر دیا۔ واقعے کی تفصیلات کے مطابق اسرائیلی فوجی دستوں نے ایک کارروائی کے دوران فتحی کاظم پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئے اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔ فلسطینی حکام نے ان واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ فلسطین میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی فورسز اور آباد کاروں کے ان پرتشدد اقدامات کا فوری نوٹس لیں تاکہ نہتے فلسطینیوں کی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔