LIVE
Loading Breaking News...

للی چن کی کامیابی کی کہانی: راہبہ سے ٹیک انٹرپرینیور تک

News Image
للی چن نے اپنی زندگی کا آغاز ایک بدھ بھکشو کے طور پر کیا تھا لیکن آج وہ ایک کامیاب ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپ کی بانی ہیں۔ انہوں نے میٹا جیسی بڑی کمپنی میں کام کرنے کے بعد ایف ایس ایچ ٹیکنالوجیز کی بنیاد رکھی۔
للی چن کی زندگی کا سفر انتہائی غیر روایتی اور متاثر کن ہے۔ محض سولہ برس کی عمر میں انہوں نے دنیاوی تعلیمی اداروں کو خیرباد کہہ کر بدھ مت کی راہنمائی میں راہبہ بننے کا فیصلہ کیا اور اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ خانقاہ کے سکون میں گزارا۔ تاہم، قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا اور کئی برسوں بعد انہوں نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں قدم رکھا۔ میٹا جیسی عالمی شہرت یافتہ ٹیکنالوجی کمپنی میں ملازمت کے بعد، انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی۔ للی چن کے لیے ٹیکنالوجی کا سفر اس وقت ایک نئے موڑ پر آیا جب انہوں نے کورونا وائرس کی وبا کے دوران اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ایک ہیکاتھون پروجیکٹ شروع کیا۔ یہ محض ایک شوقیہ پروجیکٹ تھا، لیکن جلد ہی اس نے ایک مکمل اسٹارٹ اپ کی شکل اختیار کر لی۔ یہی وہ لمحہ تھا جب ایف ایس ایچ ٹیکنالوجیز (FSH Technologies) کا جنم ہوا۔ یہ کمپنی آج سرکاری اداروں کو جدید ٹیکنالوجی خدمات فراہم کر رہی ہے اور بڑے کاروباری اداروں جیسے ایکسینچر (Accenture) کے لیے ایک مضبوط حریف کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔ کمپنی کی کامیابی کا راز للی چن کے انتھک کام اور ان کے منفرد نقطہ نظر میں مضمر ہے۔ ایف ایس ایچ ٹیکنالوجیز بنیادی طور پر پیچیدہ انتظامی مسائل کو حل کرنے پر توجہ مرکوز کرتی ہے، جس سے سرکاری دفاتر کی کارکردگی میں بہتری لائی جا رہی ہے۔ للی چن کا کہنا ہے کہ ان کا مذہبی پس منظر اور خانقاہ میں گزارا ہوا وقت انہیں دباؤ میں پرسکون رہنے اور پیچیدہ مسائل کو گہرائی سے سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ وہ مانتی ہیں کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے انسانی زندگیوں میں بہتری لانا ایک عبادت سے کم نہیں۔ آج للی چن ان تمام افراد کے لیے ایک مثال ہیں جو زندگی میں کیریئر کی تبدیلی سے گھبراتے ہیں۔ ایک راہبہ سے لے کر ایک کامیاب ٹیکنالوجی بانی بننے تک کا ان کا سفر یہ ثابت کرتا ہے کہ اگر ارادہ پختہ ہو تو انسان کسی بھی میدان میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ ان کا اسٹارٹ اپ تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے برسوں میں یہ کمپنی سرکاری سیکٹر کی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں مزید اہم سنگ میل عبور کرے گی۔