LIVE
Loading Breaking News...

بلاول بھٹو کی وفاقی حکومت کو وارننگ: آزاد کشمیر الیکشن میں دھاندلی برداشت نہیں کی جائے گی

News Image
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے مظفرآباد میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر آزاد کشمیر کے انتخابات میں دھاندلی کی گئی تو وفاقی حکومت کے لیے مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں بالخصوص پی ٹی آئی کو بائیکاٹ کی سیاست چھوڑ کر پارلیمانی عمل کا حصہ بننے کی دعوت دی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جمعرات کے روز مظفرآباد میں ایک پرجوش عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور مخالفین کو واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں عوامی مینڈیٹ کو چرانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہو جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ ن لیگ یہ سمجھتی ہے کہ گلگت بلتستان کے بعد کشمیر میں شکست ان کی حکومت کے زوال کا باعث بنے گی، لیکن اگر انہوں نے ووٹوں پر ڈاکہ ڈالا تو ہم ان کے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ جائیں گے۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی تاریخ قربانیوں سے بھری ہے اور ان کی پارٹی کے بزرگوں نے ضیاء الحق اور پرویز مشرف جیسے آمروں کا مقابلہ کیا ہے اور وہ سیاسی مخالفین کا سیاسی میدان میں مقابلہ کرنا بخوبی جانتے ہیں۔ اپنے خطاب کے دوران چیئرمین پیپلز پارٹی نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کو بھی مشورہ دیا کہ وہ احتجاج اور بائیکاٹ کی سیاست کو خیرباد کہہ کر جمہوری راستے پر واپس آئیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ، کمیٹیوں اور انتخابات کا بائیکاٹ کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ سیاسی جماعتوں کو اپنے فرائض سرانجام دینے چاہئیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے کارکنوں اور سنجیدہ سیاستدانوں کو دعوت دی کہ وہ ان کے ساتھ ہاتھ ملائیں تاکہ ملک بھر اور خصوصاً کشمیر میں شفاف انتخابات کے انعقاد اور پارلیمانی اصلاحات کے لیے مشترکہ جدوجہد کی جا سکے۔ بلاول نے ووٹرز پر زور دیا کہ وہ آئندہ انتخابات میں اتنی بڑی تعداد میں پولنگ اسٹیشنز کا رخ کریں کہ دھاندلی کی کوئی بھی کوشش ناکام ہو جائے۔ اس موقع پر مخالف جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے دعوے کرنے والے پہلے اپنے سابقہ کاموں کا حساب دیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ آزاد کشمیر میں میڈیکل کالجز اور جامعات کے قیام سمیت اہم تعلیمی ادارے پیپلز پارٹی کے دور میں بنے ہیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ کشمیر کو کسی دوسرے صوبے کی نقل بنانے کے بجائے ایک خودمختار اور مضبوط خطہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ جلسے کے دوران کارکنوں کا جوش و خروش دیدنی تھا اور انہوں نے قیادت کے ہر نعرے پر بھرپور لبیک کہا۔