Politics
امریکی سائنسی تحقیق پر ٹرمپ انتظامیہ کے نئے حکمناموں کے اثرات
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے وفاقی گرانٹس اور سائنسی تحقیق کے لیے متعارف کرائے گئے نئے قواعد و ضوابط پر ماہرین کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں امریکی سائنسی تحقیق کی رفتار کو سست کرنے اور تعلیمی معیار کو متاثر کرنے کا سبب بن سکتی ہیں۔
امریکہ میں وفاقی حکومت کی جانب سے دی جانے والی سائنسی گرانٹس اور ان کے قواعد و ضوابط میں تبدیلیوں نے ملک بھر کے سائنسی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے 'یونیفارم گائیڈنس' کے نام سے متعارف کرائے گئے نئے ضوابط، جو بنیادی طور پر تحقیق کو منظم کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں، کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ امریکی ریسرچ کے شعبے کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ قواعد نہ صرف کینسر جیسی مہلک بیماریوں پر تحقیق کے عمل کو متاثر کریں گے بلکہ گریجویٹ طلباء کی تربیت اور کلینیکل ٹرائلز کے معیار پر بھی براہ راست اثر انداز ہوں گے۔
نئے قوانین کے تحت، وفاقی فنڈز کے استعمال کے لیے سخت اور پیچیدہ ضابطے لاگو کیے جا رہے ہیں، جس سے یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کو شدید انتظامی بوجھ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ محققین کا ماننا ہے کہ ان ضوابط کی وجہ سے نہ صرف وسائل کی فراہمی میں تاخیر ہوگی بلکہ نوجوان سائنسدانوں کے لیے تحقیق کے نئے مواقع بھی محدود ہو جائیں گے۔ اگرچہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدامات شفافیت لانے کے لیے اٹھائے گئے ہیں، تاہم سائنسی برادری اسے تحقیق کی آزادی سلب کرنے کی ایک کوشش قرار دے رہی ہے۔
مستقبل کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سائنسی تحقیق کے لیے فنڈنگ کے طریقہ کار کو مزید مشکل بنایا گیا تو امریکہ عالمی سطح پر سائنسی جدت میں اپنی برتری کھو سکتا ہے۔ کینسر، ماحولیاتی تبدیلی، اور جدید ٹیکنالوجی کے منصوبے، جو وفاقی گرانٹس پر انحصار کرتے ہیں، ان قواعد کی زد میں ہیں۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا حکومت اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے گی یا یہ تبدیلیاں امریکی سائنس کو طویل مدتی نقصان پہنچائیں گی۔