LIVE
Loading Breaking News...

پیٹر آگاڈا: 2027 کے صدارتی انتخابات کے لیے نیا سیاسی وژن

News Image
ینگ پروگریسیوز پارٹی کے صدارتی امیدوار آرکیٹیکٹ پیٹر آگاڈا نے 2027 کے انتخابات کے لیے اپنے منشور کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا ہے کہ ان کی حکومت نچلی سطح پر ترقی اور وارڈ کیپیٹلزم کے ماڈل پر توجہ مرکوز کرے گی۔
ینگ پروگریسیوز پارٹی (YPP) کے صدارتی امیدوار آرکیٹیکٹ پیٹر آگاڈا نے اعلان کیا ہے کہ اگر وہ 2027 کے صدارتی انتخابات میں کامیاب ہوتے ہیں تو ان کی حکومت ملک چلانے کے لیے بالکل مختلف اور انقلابی انداز اپنائے گی۔ دارالحکومت ابوجا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملکی ترقی کو صرف حکومتی ایوانوں تک محدود رکھنے کے بجائے نچلی سطح پر لے جانا ان کی اولین ترجیح ہوگی۔ ان کا ماننا ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری روایتی طرزِ حکمرانی عوام کو درپیش بنیادی مسائل حل کرنے میں ناکام رہا ہے، اس لیے اب ایک نئے اور مستحکم وژن کی ضرورت ہے۔ پیٹر آگاڈا نے اپنے اس وژن کو 'وارڈ کیپیٹلزم' (Ward Capitalism) کا نام دیا ہے، جس کا مقصد نچلی سطح پر معاشی سرگرمیوں کو فروغ دے کر دیہی اور پسماندہ علاقوں میں ترقی لانا ہے۔ امیدوار کا کہنا ہے کہ ان کی انتظامیہ کا مرکزی نقطہ ملک میں پیداواری صلاحیت کو بڑھانا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ محض درآمدات پر انحصار کرنے کے بجائے ملکی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے مقامی صنعتوں کو ترجیح دی جائے گی تاکہ بے روزگاری کا خاتمہ ہو سکے۔ آرکیٹیکٹ پیٹر آگاڈا نے مزید کہا کہ وہ نچلی سطح پر وسائل کی منتقلی کے لیے ایک شفاف نظام وضع کریں گے تاکہ ہر وارڈ اپنی ضروریات کے مطابق ترقی کر سکے اور عوام کو ان کی دہلیز پر بنیادی سہولیات میسر آ سکیں۔ انہوں نے اپنے سیاسی حریفوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ محض وعدوں کی سیاست کے بجائے عملی اقدامات پر یقین رکھتے ہیں جو نائیجیریا کی معیشت کو نئی بلندیوں پر لے جا سکیں۔ پیٹر آگاڈا نے اپنے خطاب میں نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کا مستقبل ہیں اور ان کی حکومت میں نوجوانوں کی شمولیت نہ صرف فیصلہ سازی میں ہوگی بلکہ انہیں معاشی ترقی کے عمل میں بھی کلیدی حیثیت دی جائے گی۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ان کا انتخابی منشور عوامی امنگوں کی ترجمانی کرتا ہے اور وہ اپنے منشور کے تحت ملک کو درپیش بحرانوں سے نکالنے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ 2027 میں ایک ایسی قیادت کا انتخاب کریں جو تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتی ہو اور جس کے پاس نچلی سطح تک خوشحالی پہنچانے کا ٹھوس منصوبہ موجود ہو۔ ان کا یہ بیان سیاسی حلقوں میں خاصی توجہ کا مرکز بن گیا ہے کیونکہ ملک میں موجودہ معاشی حالات کے پیش نظر عوام متبادل سیاسی قوتوں کی تلاش میں ہیں۔