LIVE
Loading Breaking News...

نیوکلیئر انرجی اسٹاکس میں شدید مندی: وجوہات اور مارکیٹ کا ردعمل

News Image
امریکی اسٹاک مارکیٹ میں نیوکلیئر انرجی سیکٹر سے وابستہ کمپنیوں کے حصص میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق شرح سود میں اضافے کے خدشات نے پری کمرشل نیوکلیئر منصوبوں پر سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل کر دیا ہے۔
امریکہ کی اسٹاک مارکیٹ میں جمعرات کے روز نیوکلیئر انرجی سیکٹر سے وابستہ کمپنیوں کے حصص میں غیر معمولی گراوٹ دیکھی گئی۔ نیوسکیل پاور اور اوکلو جیسی بڑی کمپنیوں کے حصص میں 5 فیصد تک کی کمی واقع ہوئی، جبکہ سینٹرس انرجی کے حصص 6 فیصد گر گئے۔ اس کے علاوہ یو آر اے (URA) انڈیکس بھی 3 فیصد نیچے آ گیا، جس سے سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق یہ گراوٹ اس شعبے کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھی جا رہی ہے۔ اس مندی کی بنیادی وجہ امریکہ میں شرح سود کے حوالے سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ نیوکلیئر انرجی کے شعبے میں کام کرنے والی یہ کمپنیاں فی الحال 'پری کمرشل' مرحلے میں ہیں، یعنی یہ کمپنیاں برسوں سے بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہیں مگر ابھی تک کوئی نمایاں منافع کمانے کے قابل نہیں ہو سکی ہیں۔ جب شرح سود میں اضافہ ہوتا ہے تو ان جیسی کیش جلانے والی کمپنیوں (cash-burning companies) کے لیے فنڈنگ حاصل کرنا اور اپنے منصوبوں کو جاری رکھنا انتہائی مشکل اور مہنگا ہو جاتا ہے، جس کا براہِ راست اثر ان کے اسٹاکس پر پڑتا ہے۔ یہ کمپنیاں چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز (SMR) کی تیاری پر کام کر رہی ہیں، جو مستقبل کی توانائی کی ضروریات کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم، ان منصوبوں کی تکمیل میں طویل وقت اور بھاری اخراجات درکار ہوتے ہیں۔ سرمایہ کار اب ان کمپنیوں کے طویل مدتی وژن کے بجائے ان کی مختصر مدتی مالیاتی کارکردگی اور بلند شرح سود کے اثرات کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔ اس مارکیٹ کریکشن نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے حامل اسٹاکس موجودہ معاشی حالات میں کتنے غیر مستحکم ہو سکتے ہیں۔ ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ نیوکلیئر سیکٹر میں سرمایہ کاری اب ایک رسک بن چکی ہے، جب تک کہ یہ کمپنیاں اپنی آمدنی کے ذرائع کو مستحکم نہیں کر لیتیں۔ آئندہ چند ہفتوں کے دوران سرمایہ کاروں کی توجہ مرکزی بینک کی پالیسیوں پر رہے گی۔ اگر شرح سود میں مزید اضافہ ہوا تو ان کمپنیوں کے لیے مالیاتی بحران گہرا ہو سکتا ہے، تاہم اگر حالات میں بہتری آئی تو یہ اسٹاکس دوبارہ بحال ہونے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ فی الحال مارکیٹ میں ان کمپنیوں کے حوالے سے احتیاط برتنے کا رجحان غالب ہے۔