Politics
محسن نقوی کا نئے صوبوں اور سیاسی نظام پر اہم بیان، تمام جماعتوں کو اتحاد کی دعوت
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ملک میں نئے صوبوں کے قیام سمیت تمام قومی مسائل کے حل کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک کمرے میں بیٹھنا چاہیے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ملک کا موجودہ نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے اور اس میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں منعقدہ پاکستان اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ نئے صوبوں کے قیام اور دیگر قومی نوعیت کے اہم مسائل کو حل کرنے کے لیے فوری طور پر سر جوڑ کر بیٹھیں اور عوامی سطح پر اس کا فیصلہ کریں۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ملک کی مجموعی حالت کو بہتر بنانے کا صرف ایک ہی حل ہے کہ انتظامی اکائیوں اور صوبوں کے معاملے کو براہ راست عوام کے سامنے لے جایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام سیاسی جماعتیں چاہے ایک دن، ایک ماہ یا پورا سال ایک کمرے میں بیٹھیں، لیکن انہیں ملک کے تمام اہم امور اور نئے صوبوں کے تنازع کو ہمیشہ کے لیے طے کرنا ہوگا۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ جب تک تمام جماعتیں مل بیٹھ کر اس نظام میں بنیادی تبدیلیاں نہیں لائیں گی، ملک کے حالات اسی طرح جوں کے توں رہیں گے۔ اس موقع پر محسن نقوی نے صاف گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ چاہے کوئی اس بات سے اتفاق کرے یا نہیں، لیکن حقیقت یہی ہے کہ ہم جس نظام کے تحت زندگی گزار رہے ہیں وہ مکمل طور پر بیٹھ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک یہی فرسودہ نظام چلتا رہے گا، ملک کے حالات میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آ سکتی۔ وزیر داخلہ نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ عام شہری بنیادی ضروریاتِ زندگی کی فراہمی اور حکومت سے آسان رسائی چاہتا ہے، جو کہ فی الحال مہیا نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی مالی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ منفی بجٹ بنائے جاتے ہیں اور صرف اس بات پر بحث ہوتی ہے کہ اس سال مزید کتنا قرض لینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مزید قرضے تو لے لیں گے لیکن چیزوں کو درست کرنے کی زحمت نہیں کریں گے۔ محسن نقوی نے خود کو جمہوریت کا سب سے بڑا حامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کے اندر بھی متعدد نظام موجود ہوتے ہیں، لیکن ہم نے اس روایتی اور ناکام نظام کو ہی گھسیٹنے کی قسم کھائی ہوئی ہے۔ انہوں نے ملک کی سفارتی کوششوں کو محض فائر فائٹنگ قرار دیا اور کہا کہ جب تک ملک کی بنیادی اکائیوں کو جمہوریت کی حقیقی روح کے مطابق درست نہیں کیا جاتا، حالات نہیں بدل سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد جیسے مصروف شہر میں جب تک نئی انتظامی اکائیوں کو نہیں بنایا جاتا اور نئی قیادت سامنے نہیں آتی، مسائل حل نہیں ہوں گے۔ نوجوانوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو چند گفٹس یا ٹیبلٹس دینے سے وہ خوش نہیں ہوں گے، بلکہ وہ میرٹ پر مبنی روزگار اور ایک درست نظام چاہتے ہیں جو ہم فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ آخر میں انہوں نے کاروباری برادری اور چیمبرز کے کردار پر بھی بات کی اور تقریب کے شرکاء کو ملکی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا۔