LIVE
Loading Breaking News...

تائیوان کا نیا دفاعی بجٹ اور چین کے ساتھ کشیدہ صورتحال

News Image
تائیوان نے چین کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر اپنے دفاعی بجٹ کو ریکارڈ سطح تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد جزیرے کی فوجی صلاحیتوں کو مستحکم کرنا اور امریکہ کی جانب سے خود انحصاری کے مطالبے کو پورا کرنا ہے۔
تائیوان نے چین کی جانب سے بڑھتے ہوئے فوجی دباؤ اور خطرات کے پیش نظر تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی بجٹ تجویز کیا ہے۔ جزیرے کی حکومت نے یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا ہے جب واشنگٹن کی جانب سے مسلسل یہ مطالبات سامنے آ رہے ہیں کہ تائیوان اپنی سیکیورٹی کے لیے خود انحصاری حاصل کرے اور اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ کرے۔ اس نئے مالی سال کے لیے پیش کردہ بجٹ تائیوان کی فوجی صلاحیتوں کو جدید بنانے اور ممکنہ بیرونی حملے کے خلاف دفاعی حصار کو مضبوط کرنے پر مرکوز ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، اس بجٹ کا مقصد جدید ترین ہتھیاروں کی خریداری، فضائیہ کی استعداد کار میں اضافہ اور سمندری سرحدوں کی بہتر نگرانی کو یقینی بنانا ہے۔ چین تائیوان کو اپنے ملک کا حصہ سمجھتا ہے اور آئے روز تائیوان کے ارد گرد فوجی مشقیں کر کے کشیدگی میں اضافہ کرتا ہے، جس کے پیش نظر تائیوان نے اب اپنی دفاعی پالیسی کو مزید جارحانہ اور خود مختار بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ریکارڈ بجٹ نہ صرف تائیوان کی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہے بلکہ یہ عالمی برادری کو بھی ایک واضح پیغام ہے کہ تائیوان اپنی آزادی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ امریکہ تائیوان کا سب سے بڑا دفاعی اتحادی ہے اور اس نے تائیوان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی عسکری قوت میں اضافہ کرے تاکہ چین کی جانب سے کسی بھی ممکنہ جارحیت کا فوری اور مؤثر جواب دیا جا سکے۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ تائیوان کا یہ اقدام خطے میں جاری طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی ایک بڑی کوشش ہے۔ اگرچہ چین کی جانب سے تائیوان کے اس اقدام پر سخت ردعمل کا خدشہ ہے، لیکن تائیوانی حکومت کا مؤقف ہے کہ ان کی سیکیورٹی ہی خطے میں امن کی ضامن ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ بجٹ تائیوان کی پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد باقاعدہ طور پر نافذ العمل ہوگا جس کے بعد جزیرے کی فوجی طاقت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔