LIVE
Loading Breaking News...

البرٹا میں اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے خلاف عوامی احتجاج

News Image
البرٹا کے وزیر ٹیکنالوجی کو صوبے میں نئے اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے قیام کے منصوبے پر عوام کی جانب سے سخت ردعمل اور نعرے بازی کا سامنا کرنا پڑا۔ مقامی لوگوں نے ڈیٹا سینٹرز کے ماحولیاتی اور وسائل پر اثرات کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے۔
کینیڈا کے صوبے البرٹا میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) ڈیٹا سینٹرز کے قیام کے حکومتی منصوبے پر عوامی غصے میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ بدھ کی رات منعقدہ ایک ٹاؤن ہال اجلاس کے دوران، صوبائی وزیر ٹیکنالوجی کو شہریوں کی جانب سے شدید تنقید، نعرے بازی اور احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔ اس اجلاس میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگ شریک تھے جنہوں نے منصوبے کے ماحولیاتی اثرات اور بجلی کی کھپت پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ وزیر ٹیکنالوجی کو سخت سوالات کا جواب دیتے وقت مسلسل شور و غل اور بوز (boos) کا سامنا کرنا پڑا، جو کہ صوبائی حکومت کی ٹیکنالوجی پالیسی کے حوالے سے عوام کے عدم اطمینان کی عکاسی کرتا ہے۔ اجلاس کے دوران شرکاء کا کہنا تھا کہ حکومت بڑے پیمانے پر ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے میں تو جلدی کر رہی ہے، لیکن اس کے مقامی ماحول، پانی کے وسائل اور بجلی کی فراہمی پر پڑنے والے اثرات کا اندازہ لگانے میں ناکام رہی ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا کہ اے آئی ٹیکنالوجی کے فروغ کے ساتھ ساتھ عوامی مفاد اور وسائل کے تحفظ کو بھی اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ مظاہرین نے وزیر سے براہ راست سوالات کیے کہ کیا یہ ڈیٹا سینٹرز مقامی آبادی کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کریں گے یا یہ صرف بڑی کارپوریٹ کمپنیوں کے مفاد میں کام کریں گے۔ دوسری جانب حکومتی نمائندوں کا موقف ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا شعبہ مستقبل کی معیشت کے لیے ناگزیر ہے اور البرٹا کو اس ٹیکنالوجی کا مرکز بنانا صوبے کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ وزیر ٹیکنالوجی نے ہنگامہ آرائی کے باوجود یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ حکومت تمام تر حفاظتی اقدامات پر غور کر رہی ہے۔ تاہم، عوامی حلقوں کا یہ ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے نام پر وسائل کا ضیاع برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عوام اب ٹیکنالوجی منصوبوں پر زیادہ شفافیت اور جوابدہی کے خواہشمند ہیں اور وہ حکومت کے فیصلوں میں اپنی شمولیت چاہتے ہیں۔ اس ٹاؤن ہال کے بعد اب یہ بحث زور پکڑ گئی ہے کہ آیا حکومت اپنی پالیسی میں تبدیلی لائے گی یا مزید عوامی احتجاج کا راستہ ہموار ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کی دوڑ میں شامل ہونے کے ساتھ ساتھ عوامی اعتماد کا حصول حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ توقع کی جا رہی ہے کہ حکومت ڈیٹا سینٹرز کے حوالے سے اپنی منصوبہ بندی پر نظرثانی کرے گی تاکہ بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔