Pakistan
پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان
وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کرتے ہوئے شہریوں پر اضافی بوجھ ڈال دیا ہے۔ پیٹرول 3 روپے 81 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 3 روپے 59 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے جس کے بعد ملک بھر میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتیں نئی سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 81 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 59 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔ ان قیمتوں کے اضافے کے بعد عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ پہلے سے ہی مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے عوام کے لیے ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ایک اور بڑے بوجھ کے مترادف ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر اشیائے خوردونوش کی ترسیل اور کرایوں پر پڑتا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کے نرخوں میں تبدیلیوں اور ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کو جواز بنا کر پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں میں ردوبدل کیا جاتا رہا ہے۔ ڈیلر مارجن میں اضافے کے باعث بھی صارفین پر سالانہ بنیادوں پر اربوں روپے کا اضافی بوجھ پڑ رہا ہے، جس کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے پیٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسز کے نفاذ کے بعد عام آدمی کی قوت خرید مزید متاثر ہوئی ہے۔ عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک براہ راست پہنچانا چاہیے اور پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں کی شرح میں کمی کرنی چاہیے تاکہ مہنگائی کے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں اضافے سے ملک میں افراطِ زر کی شرح میں مزید تیزی آئے گی اور بنیادی ضرورت کی اشیاء کی قیمتیں بھی اوپر جائیں گی۔ حکومت کی جانب سے قیمتوں کے اس حالیہ اضافے پر سیاسی جماعتوں اور عوامی حلقوں کی جانب سے تنقید کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ عوام کا موقف ہے کہ پہلے سے ہی بجلی اور گیس کے بھاری بلوں کے بوجھ تلے دبے عوام مزید مہنگائی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس صورتحال میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کیا اقدامات کرتی ہے۔