LIVE
Loading Breaking News...

ایران کے صدر کا جنگ بندی پر اہم بیان

News Image
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے زور دیا ہے کہ تنازعات کو طاقت اور وقار کی پوزیشن میں رہتے ہوئے ختم کرنا وقت کا تقاضا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی صورت میں دباؤ یا دھمکیوں کے سامنے جھکنے والا نہیں ہے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ خطے میں جاری تنازعات اور جنگ کو آج ہی ختم کرنا بہتر ہے، کیونکہ تہران اس وقت طاقت اور وقار کی پوزیشن پر ہے۔ صدر پزشکیان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران اپنی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور نہ ہی کسی عالمی طاقت کی دھمکیوں یا بدمعاشی کے سامنے ہتھیار ڈالے گا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور عالمی برادری مسلسل جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔ صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ ایران کے لیے قومی وقار اور طاقت کا تحفظ اولین ترجیح ہے، اور کسی بھی جنگ کو ایسی پوزیشن سے ختم کرنا زیادہ سودمند ہے جہاں آپ خود کو کمزور محسوس نہ کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تہران کی خارجہ پالیسی میں کوئی ایسا شق شامل نہیں ہے جو کسی بھی ملک کے سامنے جھکنے یا سرنڈر کرنے کا اشارہ دے، بلکہ ایران اپنے دفاع کے لیے پوری طرح مستعد ہے۔ ان کے اس بیان کو عالمی مبصرین کی جانب سے خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے مزاحمتی لہجہ بھی برقرار رکھا ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے مفاہمت کے معاہدوں پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ ان معاہدوں کا مقصد باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے نہ کہ کسی دباؤ کا نتیجہ۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران ایک مستحکم اور پرامن خطے کا خواہاں ہے جہاں تمام ممالک باہمی احترام کے اصولوں پر کاربند رہیں۔ ایرانی صدر نے اپنی قوم کو یقین دلایا کہ حکومت ملک کی معاشی اور دفاعی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے، تاکہ بین الاقوامی سطح پر ایران کی آواز کو طاقت کے ساتھ سنا جائے۔ آخر میں، صدر مسعود پزشکیان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ جنگ کے تباہ کن اثرات کو سمجھیں اور سفارتی حل کو ترجیح دیں۔ ان کا یہ بیان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اگرچہ ایران تنازعات کے خاتمے کے لیے تیار ہے، لیکن یہ امن عزت اور برابری کی بنیاد پر ہی ممکن ہوگا۔ تہران کی جانب سے یہ پیغام ایک ایسے وقت میں دیا گیا ہے جب دنیا مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی قسم کے بڑے تصادم کے خطرات کو ٹالنے کی کوششیں جاری ہیں۔