LIVE
Loading Breaking News...

سونے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ: حالیہ تیزی کی اہم وجوہات

News Image
عالمی منڈی میں سونے اور چاندی کی قیمتوں نے کئی ماہ کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں جس کی بڑی وجہ امریکی ڈالر کی قدر میں کمی اور بانڈ مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال ہے۔ ماہرین کے مطابق افراطِ زر کے خدشات اور قرضوں کے بوجھ نے سرمایہ کاروں کو محفوظ اثاثوں کی طرف راغب کیا ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں نے گزشتہ چند ماہ کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں، جس کے بعد قیمتی دھاتوں کی تجارت ایک نئی بلندی پر پہنچ گئی ہے۔ ماہرینِ معاشیات کے مطابق، اس تیزی کے پیچھے کئی اہم عوامل کارفرما ہیں جن میں امریکی ڈالر کی گرتی ہوئی قدر سرفہرست ہے۔ جب ڈالر کی قیمت میں کمی آتی ہے تو بین الاقوامی سرمایہ کار اپنے سرمائے کو محفوظ رکھنے کے لیے سونے اور چاندی کی خریداری کو ترجیح دیتے ہیں، جس سے ان دھاتوں کی طلب میں زبردست اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی ٹریژری بانڈز کی کارکردگی اور بانڈ مارکیٹ میں جاری اتار چڑھاؤ نے بھی سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے، جس کا فائدہ براہ راست گولڈ مارکیٹ کو پہنچ رہا ہے۔ مزید برآں، دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی افراطِ زر (Inflation) کے خدشات نے بھی سونے کی مانگ کو بڑھایا ہے۔ سرمایہ کاروں کو ڈر ہے کہ اگر موجودہ معاشی صورتحال برقرار رہی تو کرنسی کی قدر میں مزید کمی ہو سکتی ہے، اس لیے سونے کو ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب قرضوں کے بوجھ اور مرکزی بینکوں کی جانب سے سود کی شرح کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نے بھی اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔ چاندی کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ بھی اسی تسلسل کا حصہ ہے، کیونکہ صنعتی اور سرمایہ کاری کے مقاصد کے لیے چاندی کی طلب میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر امریکی ڈالر اپنی موجودہ کمزور پوزیشن پر قائم رہتا ہے اور معاشی غیر یقینی کے بادل نہیں چھٹتے، تو سونے اور چاندی کی قیمتیں آنے والے دنوں میں مزید مستحکم رہ سکتی ہیں۔ تاہم، مارکیٹ کے تجزیہ کاروں نے سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو بغور دیکھیں، کیونکہ مستقبل میں مرکزی بینکوں کے فیصلوں کا ان قیمتوں پر گہرا اثر پڑے گا۔ مجموعی طور پر، حالیہ تیزی اس بات کی عکاس ہے کہ دنیا بھر کے سرمایہ کار عالمی معاشی بحران کے خدشے کے پیش نظر روایتی مالیاتی اثاثوں سے نکل کر قیمتی دھاتوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں، جس سے یہ مارکیٹ فی الحال ایک محفوظ پناہ گاہ بنی ہوئی ہے۔