LIVE
Loading Breaking News...

شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کی برطانیہ واپسی شاہی خاندان میں نئی ہلچل کا باعث

News Image
برطانیہ واپسی کے حوالے سے شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کے حالیہ اقدامات کو شاہی ماہرین نے ایک بڑی شکست قرار دیا ہے۔ مبینہ طور پر ہیری اور شہزادہ ولیم کے درمیان ممکنہ ملاقات دونوں بھائیوں کے مابین گہری خلیج کو مزید نمایاں کر رہی ہے۔
برطانوی شاہی خاندان کے اہم ترین افراد شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کی ممکنہ برطانیہ واپسی نے میڈیا اور شاہی امور کے تجزیہ کاروں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس واپسی کا منظرنامہ کسی 'شاندار شکست' سے کم نہیں ہے، کیونکہ گزشتہ چند برسوں کے دوران شاہی خاندان سے دوری کے بعد اب دوبارہ تعلقات استوار کرنے کی کوششیں ایک مشکل مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس واپسی کے پیچھے کئی قیاس آرائیاں موجود ہیں، جن میں سب سے نمایاں ہیری اور ان کے بڑے بھائی شہزادہ ولیم کے درمیان ممکنہ آمنے سامنے کی ملاقات ہے۔ شاہی امور کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر دونوں بھائیوں کے درمیان کوئی براہ راست بات چیت ہوتی ہے، تو یہ کافی کشیدہ ہو سکتی ہے کیونکہ ماضی کے تلخ تجربات اور الزامات نے ان کے رشتوں میں بہت گہرائی تک خلیج پیدا کر دی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شہزادہ ولیم کے ساتھ ہیری کا ممکنہ سامنا شاہی محل کے لیے کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں ہوگا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب شاہی خاندان خود کئی اندرونی دباؤ کا شکار ہے۔ میڈیا میں یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ ہیری نے اپنے بھائی تک رسائی کی کوشش کی ہے، تاہم اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ آیا ولیم اس پیش رفت کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔ اس کے علاوہ میگھن مارکل کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، اور کچھ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ہیری کو کچھ خاص اقدامات کرنے سے منع کیا ہے تاکہ مزید تنازعات سے بچا جا سکے۔ مجموعی طور پر، ہیری اور میگھن کا یو کے آنا محض ایک دورہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے شاہی خاندان کی داخلی سیاست اور ذاتی تعلقات کی پیچیدگیاں کارفرما ہیں۔ شاہی شائقین اور ناقدین اب اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ کیا یہ واپسی دونوں بھائیوں کے درمیان برف پگھلانے کا باعث بنے گی یا پھر یہ خلیج مزید وسیع تر ہو جائے گی۔ فی الحال محل کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، جس سے قیاس آرائیوں کا بازار مزید گرم ہو چکا ہے۔