World
برطانیہ میں خشک سالی اور زرعی بحران: تازہ صورتحال
برطانیہ کے بیشتر علاقوں میں شدید گرمی اور طویل خشک سالی کے باعث زرعی پیداوار کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق انگلینڈ کے دو تہائی حصے میں خشک سالی کا اعلان کیا گیا ہے جس سے کسانوں کو فصلوں کے نقصان کا سامنا ہے۔
برطانیہ بھر میں گزشتہ کئی مہینوں سے جاری شدید گرمی کی لہر اور غیر معمولی خشک موسم نے زرعی شعبے کو ایک سنگین بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔ محکمہ موسمیات اور متعلقہ حکام کی حالیہ رپورٹس کے مطابق انگلینڈ کا تقریباً دو تہائی حصہ باضابطہ طور پر خشک سالی کا شکار ہو چکا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف مقامی کسانوں کی پریشانیوں میں اضافہ کیا ہے بلکہ ملکی سطح پر خوراک کی پیداوار پر بھی سوالیہ نشان اٹھا دیے ہیں۔ طویل عرصے تک بارش نہ ہونے کی وجہ سے زمینیں بنجر ہو رہی ہیں اور فصلوں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
زراعت سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی کی کمی کے باعث اناج، سبزیوں اور پھلوں کی پیداوار میں نمایاں کمی متوقع ہے۔ خشک سالی کی وجہ سے نہ صرف آبپاشی کا نظام متاثر ہوا ہے بلکہ مویشی پالنے والے افراد کو بھی چارے کی دستیابی میں بڑی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ برطانوی کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر موسم کی یہی صورتحال رہی تو آنے والے مہینوں میں مقامی پیداوار کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عام صارف کی قوت خرید بھی متاثر ہوگی۔ حکومت کی جانب سے پانی کے استعمال پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں تاکہ دستیاب ذخائر کو ہنگامی بنیادوں پر محفوظ کیا جا سکے۔
ماحولیاتی ماہرین نے اس صورتحال کو کلائمیٹ چینج یا ماحولیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ دنیا بھر میں بڑھتا ہوا درجہ حرارت برطانیہ جیسے ممالک میں بھی خشک سالی کے دورانیے کو طویل کر رہا ہے، جس کے اثرات اب معاشی اور معاشرتی زندگی پر نمایاں ہونے لگے ہیں۔ حکومت اور زرعی تنظیمیں مشترکہ طور پر اس بحران سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی وضع کر رہی ہیں تاکہ فصلوں کو تباہی سے بچایا جا سکے اور مستقبل میں پانی کے بہتر انتظام کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال یقینی بنایا جا سکے۔
آخر میں، کسانوں کے لیے یہ وقت انتہائی آزمائش کا ہے اور انہیں حکومتی سطح پر مالی امداد اور تکنیکی معاونت کی اشد ضرورت ہے۔ اگرچہ بارش کے کچھ امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں، تاہم زرعی ماہرین کا خیال ہے کہ زمین کی نمی کو بحال ہونے میں کافی وقت لگے گا۔ یہ صورتحال پوری دنیا کے لیے ایک انتباہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے اب فوری اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے، ورنہ خوراک کے بحران کا خدشہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔