LIVE
Loading Breaking News...

نیوا بوپا اور ایکو جنرل انشورنس پر پابندی: آئی آر ڈی اے آئی کا بڑا فیصلہ

News Image
انشورنس ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف انڈیا نے مالی بے ضابطگیوں اور اخراجات کی حد سے تجاوز کرنے پر نیوا بوپا اور ایکو جنرل انشورنس کے خلاف سخت ایکشن لیا ہے۔ دونوں کمپنیوں کو اگلے چھ ماہ تک ملک بھر میں اپنے کاروباری دفاتر کھولنے سے روک دیا گیا ہے۔
انشورنس ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف انڈیا (Irdai) نے انشورنس کے شعبے میں نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے دو بڑی کمپنیوں، نیوا بوپا (Niva Bupa) اور ایکو جنرل انشورنس (Acko General Insurance) کے خلاف ایک سخت فیصلہ سنایا ہے۔ ریگولیٹر کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق، ان دونوں کمپنیوں کو اگلے چھ ماہ تک ملک میں کہیں بھی نئے کاروباری مقامات یا دفاتر کھولنے سے منع کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام ان کمپنیوں کی جانب سے انتظامی اخراجات کی مقررہ حد سے تجاوز کرنے اور ریگولیٹری ضوابط کی پاسداری نہ کرنے پر اٹھایا گیا ہے۔ آئی آر ڈی اے آئی کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نیوا بوپا نے مالی سال 2025 کے لیے مقرر کردہ اخراجات کی حدود کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، کمپنی کے لیے قابل قبول اخراجات کی حد 2403.75 کروڑ روپے مقرر تھی، جبکہ کمپنی نے اس سے کہیں زیادہ 2652.12 کروڑ روپے خرچ کیے۔ یوں کمپنی نے مقررہ حد سے 248.37 کروڑ روپے زیادہ خرچ کیے، جو کہ انشورنس قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ریگولیٹر کا کہنا ہے کہ انشورنس کمپنیوں پر اخراجات کی حدود لاگو کرنے کا مقصد پالیسی ہولڈرز کے مفادات کا تحفظ اور کمپنیوں کے مالی معاملات میں شفافیت کو برقرار رکھنا ہے۔ دوسری جانب، ایکو جنرل انشورنس کے معاملے میں بھی ریگولیٹری ادارے نے سخت موقف اپنایا ہے۔ ریگولیٹر نے واضح کیا ہے کہ انشورنس کے شعبے میں کام کرنے والی تمام کمپنیوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے انتظامی اخراجات کو ایک خاص تناسب میں رکھیں تاکہ کمپنی کی مالی صحت مستحکم رہے۔ حد سے زیادہ اخراجات نہ صرف کمپنی کے منافع کو متاثر کرتے ہیں بلکہ طویل مدت میں صارفین کے لیے بھی خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس پابندی کے بعد اب دونوں کمپنیوں کو اپنی اندرونی مالیاتی پالیسیوں اور انتظامی اخراجات کے ڈھانچے کا ازسرِ نو جائزہ لینا ہوگا۔ ماہرین کے مطابق، آئی آر ڈی اے آئی کا یہ فیصلہ انشورنس مارکیٹ میں ایک انتباہ کی حیثیت رکھتا ہے کہ کسی بھی کمپنی کو ریگولیٹری قوانین سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔ انشورنس کمپنیوں پر عائد کی گئی یہ چھ ماہ کی پابندی نہ صرف ان کی توسیعی حکمت عملی کو متاثر کرے گی بلکہ انہیں اپنے مالیاتی انتظام کو بہتر بنانے پر بھی مجبور کرے گی۔ آنے والے وقت میں ریگولیٹر کی جانب سے مزید کمپنیوں کی جانچ پڑتال کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ انشورنس انڈسٹری میں شفافیت اور مالی نظم و ضبط کو یقینی بنایا جا سکے۔