LIVE
Loading Breaking News...

ہوا سے پینے کا پانی حاصل کرنے والی نئی ٹیکنالوجی متعارف

News Image
جرمنی کی کیل یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک دہائی سے زائد تحقیق کے بعد CAU-10-H نامی ایک ایسا میٹریل تیار کر لیا ہے جو خشک ہوا سے بھی پانی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں دنیا بھر میں پانی کی قلت کے بحران سے نمٹنے کے لیے ایک انقلابی قدم ثابت ہو سکتی ہے۔
جرمنی کی معروف کیل یونیورسٹی کے محققین نے ایک دہائی پر محیط طویل تحقیق کے بعد پانی کے حصول کے لیے ایک انقلابی مادہ تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس مواد کو 'سی اے یو-10-ایچ' (CAU-10-H) کا نام دیا گیا ہے، جس کا تعلق میٹل-آرگینک فریم ورکس (MOFs) کے خاندان سے ہے۔ یہ تحقیق 2011 میں شروع ہوئی تھی اور پندرہ سال کی مسلسل محنت کے بعد اب ماہرین اس قابل ہو چکے ہیں کہ وہ اسے بڑے پیمانے پر تیار کر سکیں۔ یہ مواد خاص طور پر ہوا میں موجود نمی کو جذب کر کے اسے صاف اور پینے کے قابل پانی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، چاہے ہوا کتنی ہی خشک کیوں نہ ہو۔ اس تحقیق کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ میٹریل انتہائی خشک حالات میں بھی کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تجربات کے دوران یہ ثابت ہوا ہے کہ یہ مواد 18 فیصد تک کم نمی والی ہوا سے بھی کامیابی کے ساتھ پانی کشید کر سکتا ہے۔ ماضی میں ایسی ٹیکنالوجیز کے لیے بہت زیادہ نمی کی ضرورت ہوتی تھی، لیکن 'سی اے یو-10-ایچ' نے اس رکاوٹ کو عبور کر لیا ہے۔ محققین نے اب تک اس میٹریل کے 66 پاؤنڈز تیار کر لیے ہیں، جو اس ٹیکنالوجی کو لیبارٹری سے نکال کر عملی استعمال کی طرف لے جانے کے لیے ایک بہت بڑا قدم ہے۔ پانی کی عالمی قلت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ دریافت دنیا کے ان علاقوں کے لیے امید کی کرن ہے جہاں بارشیں کم ہوتی ہیں یا صاف پانی تک رسائی ایک بڑا چیلنج ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ میٹریل شمسی توانائی کی مدد سے بھی کام کر سکتا ہے، جس سے اسے دور دراز اور ترقی پذیر علاقوں میں استعمال کرنا مزید آسان ہو جائے گا۔ آنے والے وقتوں میں اس ٹیکنالوجی کی مدد سے پانی پیدا کرنے والے آلات گھروں اور صنعتی سطح پر نصب کیے جا سکیں گے، جس سے ماحول پر بوجھ کم ہوگا اور لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔