LIVE
Loading Breaking News...

اے آئی ٹیکنالوجی میں خواتین کی ملازمتوں کے مواقع کم

News Image
لینکڈ ان کی حالیہ تحقیق کے مطابق مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ہونے والی نئی بھرتیوں میں 75 فیصد مرد شامل ہیں۔ خواتین کے اس اہم ٹیکنالوجی انقلاب سے محروم رہنے پر ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
مصنوعی ذہانت کا انقلاب دنیا بھر کی جاب مارکیٹ کو یکسر تبدیل کر رہا ہے اور اس شعبے میں ملازمتوں کے لاکھوں منافع بخش مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ تاہم، ایک تشویشناک حقیقت سامنے آئی ہے کہ خواتین اس عظیم تکنیکی تبدیلی میں پیچھے رہ گئی ہیں۔ پیشہ ورانہ نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم 'لینکڈ ان' (LinkedIn) کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ کے مطابق، مصنوعی ذہانت سے متعلق نئی ملازمتوں میں سے 75 فیصد سے زائد بھرتیاں مردوں کی ہو رہی ہیں، جو صنفی مساوات کے حوالے سے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ماہرین کے مطابق اس فرق کی بنیادی وجوہات میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعلیمی پس منظر، صنفی تعصب اور ملازمت کے مواقع تک رسائی میں حائل رکاوٹیں شامل ہیں۔ اے آئی (AI) ایک ایسا شعبہ ہے جہاں تیزی سے کام کرنے والے ماہرین کی مانگ ہے، لیکن خواتین کو اس شعبے میں قدم جمانے کے لیے کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اگرچہ بہت سی کمپنیاں تنوع اور شمولیت (Diversity and Inclusion) کے دعوے کرتی ہیں، لیکن اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے کلیدی کرداروں میں خواتین کی نمائندگی ابھی بھی انتہائی کم ہے۔ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اے آئی سے متعلقہ شعبوں میں داخل ہونے کے لیے درکار مہارتوں کے حصول میں بھی خواتین کو مردوں کے مقابلے میں کم مواقع میسر ہیں۔ یہ صنفی خلا نہ صرف خواتین کی کیریئر کی ترقی میں رکاوٹ بن رہا ہے بلکہ مستقبل کی معیشت میں بھی غیر متوازن صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں اب اس چیلنج کو تسلیم کر رہی ہیں اور خواتین کو اے آئی کی تربیت دینے کے لیے مختلف پروگرام شروع کرنے پر غور کر رہی ہیں تاکہ اس بڑھتے ہوئے خلا کو پر کیا جا سکے۔ مستقبل کے تناظر میں یہ ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں اور نجی شعبے کی جانب سے خواتین کو اس ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے لیے تیار کیا جائے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مصنوعی ذہانت کا یہ انقلاب صرف ایک جنس تک محدود ہو کر رہ جائے گا، جو طویل مدتی اقتصادی اور سماجی فوائد کے حصول کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ خواتین کی شمولیت کے بغیر ٹیکنالوجی کا یہ مستقبل نامکمل رہے گا اور تخلیقی صلاحیتوں کے ضیاع کا سبب بنے گا۔