LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور ڈیپ فیک ڈیٹیکٹر کا نیا تنازعہ

News Image
یورپی یونین کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے مواد کو پہچاننے کے لیے واٹر مارکنگ کے استعمال پر عالمی سطح پر بحث چھڑ گئی ہے۔ انتھروپک کی جانب سے تکنیکی تفصیلات جاری ہونے کے بعد ناقدین اسے اظہار رائے کی آزادی پر ایک ضرب قرار دے رہے ہیں۔
یورپی یونین کی جانب سے مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ مواد کی شناخت کے لیے ڈیپ فیک ڈیٹیکٹر اور واٹر مارکنگ ٹیکنالوجی کے نفاذ کے مطالبے نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر پھیلنے والی جعلی معلومات کو روکنا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار ایک قسم کا 'اسکارلیٹ لیٹر' ثابت ہو سکتا ہے، جو مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ہر مواد کو مشکوک قرار دے کر اسے الگ تھلگ کر دے گا۔ یہ معاملہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب معروف کمپنی 'انتھروپک' نے اپنی ٹیکسٹ واٹر مارکنگ تکنیک کی تفصیلات عوام کے سامنے پیش کیں، جس کے بعد تکنیکی ماہرین اور انسانی حقوق کے علمبرداروں نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انتھروپک کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، یہ واٹر مارکنگ سسٹم تحریری مواد میں غیر مرئی نشانات چھوڑتا ہے، جس سے یہ معلوم کرنا آسان ہو جاتا ہے کہ آیا متن کسی انسان نے لکھا ہے یا اسے مصنوعی ذہانت کے ماڈل نے تخلیق کیا ہے۔ اگرچہ گوگل اور دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی اسی طرح کے اقدامات پر کام کر رہی ہیں، لیکن یہ ٹیکنالوجی صرف ایک تکنیکی حل نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور سماجی چیلنج بن چکی ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ اس طرح کی 'لیبلنگ' سے تخلیقی آزادی متاثر ہو سکتی ہے، کیونکہ ہر قسم کے خودکار مواد کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دینا درست نہیں ہوگا۔ دوسری جانب، یورپی یونین کا موقف ہے کہ ڈیجیٹل دور میں جعلی خبروں اور ڈیپ فیک ویڈیوز و تحریروں کی روک تھام کے لیے ایسے سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔ یورپی یونین کا ڈیپ فیک ڈیٹیکٹر نہ صرف سرکاری سطح پر بلکہ نجی پلیٹ فارمز کے لیے بھی ایک معیار قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ واٹر مارکنگ سسٹم واقعی مکمل طور پر درست نتائج دے سکتا ہے یا یہ بے گناہ صارفین کے مواد کو بھی غلطی سے نشان زد کر دے گا؟ اس ٹیکنالوجی کے طویل مدتی اثرات پر تاحال غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے۔ ٹیکنالوجی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بحث اب صرف سافٹ ویئر کے مسائل تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ انسانی معاشرے میں ٹیکنالوجی کے کردار اور شفافیت کے حوالے سے ایک گہرے مکالمے کی متقاضی ہے۔ اگر واٹر مارکنگ کا نظام مؤثر ثابت ہوتا ہے تو یہ جعلی معلومات کے خلاف جنگ میں ایک سنگ میل ہو سکتا ہے، لیکن اگر اسے شفاف طریقے سے نافذ نہ کیا گیا تو یہ آزادی اظہار کے لیے ایک نیا خطرہ بھی بن سکتا ہے۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا ٹیکنالوجی کمپنیاں اور عالمی ریگولیٹرز اس 'اسکارلیٹ لیٹر' کے منفی تاثر کو زائل کرنے کے لیے کیا اقدامات کرتے ہیں۔