LIVE
Loading Breaking News...

نیوکلیئر کلاک کی ٹیکنالوجی میں بڑی پیش رفت: سائنسدانوں نے درستگی کا حل تلاش کر لیا

News Image
طبیعیات دانوں نے ایٹمی گھڑی کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے کرسٹل میں ایک ایسا مقام دریافت کر لیا ہے جو وقت کی پیمائش کو پہلے سے کہیں زیادہ درست بنا دے گا۔ یہ پیشرفت مستقبل میں نیویگیشن، مواصلات اور سائنسی تحقیق کے شعبوں میں ایک انقلابی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرینِ طبیعیات کی ایک ٹیم نے حال ہی میں ایک اہم سائنسی کامیابی حاصل کی ہے جس کے ذریعے وہ ایٹمی گھڑیوں (Atomic Clocks) کی درستگی کو ایک نئی سطح پر لے جانے کے قابل ہو گئے ہیں۔ آج کی جدید ترین ایٹمی گھڑیاں، جو الیکٹرانز کی توانائی کی سطحوں کے درمیان تبدیلیوں کو لیزر لائٹ کے ذریعے ماپتی ہیں، پہلے ہی انتہائی درست ہیں، لیکن نئی تحقیق کے مطابق، ایک خاص قسم کا نیوکلیئر کلاک بنانے کے لیے کرسٹل کے اندر بہترین مقام کا تعین کر لیا گیا ہے۔ یہ دریافت وقت کی پیمائش کے موجودہ معیارات میں مزید باریکی پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ اس تحقیق کا مرکزی نکتہ ایک ایسا نیوکلیئر کلک سسٹم تیار کرنا ہے جو روایتی ایٹمی گھڑیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مستحکم ہو۔ سائنسدانوں نے کرسٹل جالی کے اندر مخصوص جگہوں کا تجزیہ کیا جہاں ایک خاص نیوکلیئر ٹرانزیشن کو لیزر کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکے۔ اس عمل کے لیے کرسٹل کے اندر ایٹمز کا درست مقام پر ہونا ضروری ہے تاکہ بیرونی ماحول کے اثرات، جیسے کہ درجہ حرارت یا برقی میدان، وقت کے حساب کتاب میں کوئی خرابی پیدا نہ کر سکیں۔ یہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ کرسٹل کا انتخاب درستگی کے حصول کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے عملی اطلاقات انتہائی وسیع ہو سکتے ہیں۔ نیوکلیئر کلاک کی مدد سے نہ صرف گلوبل پوزیشننگ سسٹم (GPS) کو موجودہ سے ہزار گنا بہتر بنایا جا سکتا ہے بلکہ یہ بلیک ہولز اور دیگر خلائی مظاہر کے مطالعے میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کامیابی سے وقت کی پیمائش کے آلات اتنے حساس ہو جائیں گے کہ وہ زمین کی کشش ثقل میں ہونے والی معمولی تبدیلیوں کو بھی نوٹ کر سکیں گے، جس سے زلزلے کے پیشگی انتباہ اور معدنی وسائل کی تلاش میں بھی مدد ملے گی۔ آخر میں، یہ پیشرفت نہ صرف نظریاتی طبیعیات کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل ہے بلکہ یہ عملی طور پر ٹیکنالوجی کے مستقبل کو بھی محفوظ بناتی ہے۔ نیوکلیئر کلاک کا قیام اب محض ایک خواب نہیں بلکہ حقیقت کے قریب ہے، اور یہ نئی دریافت اس عمل میں درکار سب سے بڑی تکنیکی رکاوٹ کو دور کرنے کے مترادف ہے۔ تحقیق دان اب اس سسٹم کو مزید مستحکم بنانے کے لیے تجربات کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو کمرشل اور سائنسی مقاصد کے لیے وسیع پیمانے پر استعمال میں لایا جا سکے۔