LIVE
Loading Breaking News...

چین کے شمسی توانائی کے منصوبوں کا پرندوں پر منفی اثرات کا انکشاف

News Image
چین کی جانب سے شمسی توانائی کے منصوبوں میں تیزی سے اضافہ جہاں ماحولیاتی بہتری کا باعث ہے، وہیں یہ پرندوں کے مسکن اور نقل مکانی کے راستوں کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سولر فارمز کی تنصیب کے وقت ماحولیاتی اثرات کا گہرائی سے جائزہ لینا ضروری ہے۔
چین اس وقت دنیا بھر میں شمسی توانائی کے شعبے میں سب سے آگے ہے اور ملک بھر میں صاف توانائی کی فراہمی کے لیے بڑے پیمانے پر سولر پارکس قائم کیے جا رہے ہیں۔ تاہم، ایک نئی تحقیق اور ڈیٹا کے تجزیے سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ اس وسیع پیمانے پر ہونے والی تنصیبات کے غیر متوقع نتائج پرندوں کی آبادی پر مرتب ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سولر پینلز کی تنصیب کے لیے زمینوں کا حصول اور ان بڑے رقبوں پر تعمیرات پرندوں کے قدرتی مسکنوں کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔ تحقیق کے مطابق، پرندوں کی نایاب اقسام جو نقل مکانی کے لیے خاص راستوں کا استعمال کرتی ہیں، اب سولر فارمز کی وجہ سے اپنی قدرتی گزرگاہوں سے محروم ہو رہی ہیں۔ بہت سے علاقوں میں سولر پینلز کی چمک دمک پرندوں کے لیے الجھن کا باعث بنتی ہے، جسے سائنسی اصطلاح میں 'لیک ایفیکٹ' کہا جاتا ہے۔ اس عمل کے دوران پرندے پینلز کو پانی کا ذخیرہ سمجھ کر ان کی طرف مائل ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو جاتے ہیں یا ان کی ہلاکت کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ ماحولیاتی ماہرین نے اس مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ شمسی توانائی کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے، لیکن اس کی تنصیب میں حیاتیاتی تنوع (Biodiversity) کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ چین میں موجود پرندوں کے نایاب مسکنوں کی نگرانی کرنے والے گروپوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کو سولر پروجیکٹس کی منصوبہ بندی کے دوران ایسے مقامات کا انتخاب کرنا چاہیے جو پرندوں کی ہجرت کے راستوں سے دور ہوں۔ مستقبل کے حوالے سے تجویز دی گئی ہے کہ سولر پینلز کی ٹیکنالوجی کو ایسا بنایا جائے کہ وہ پرندوں کے لیے کم نقصان دہ ثابت ہوں، اور تنصیب کے علاقوں میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ صاف توانائی کی دوڑ میں ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے سخت قوانین اور بہتر پالیسیوں کی تشکیل کی جائے تاکہ انسانوں کی ترقی کے ساتھ ساتھ پرندوں کی دنیا بھی محفوظ رہ سکے۔