LIVE
Loading Breaking News...

جدید فضائی دفاعی نظام میں پیسو ریڈار ٹیکنالوجی کا کامیاب انضمام

News Image
جرمن فضائیہ کی مشق ٹمبر ایکسپریس 2026 کے دوران رائن میٹل اور ہین سولڈٹ نے جدید نیٹ ورکڈ فضائی دفاع کے لیے ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ اس مظاہرے میں پیسو ریڈار ٹیکنالوجی کو کامیابی کے ساتھ موجودہ فضائی دفاعی نظاموں کا حصہ بنایا گیا ہے۔
جرمن فضائیہ کی حالیہ مشق 'ٹمبر ایکسپریس 2026' کے دوران، جو مانچنگ میں منعقد ہوئی، دفاعی شعبے کی دو بڑی کمپنیوں رائن میٹل (Rheinmetall) اور ہین سولڈٹ (Hensoldt) نے مستقبل کے نیٹ ورکڈ فضائی دفاعی نظام کے لیے ایک تاریخی سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ اس مشق کے دوران ہین سولڈٹ کے 'ٹوِن وس' (Twinvis) پیسو ریڈار سسٹم سے حاصل ہونے والی معلومات اور فضائی تصاویر کو رائن میٹل کے جدید فضائی دفاعی نظام میں کامیابی کے ساتھ مربوط کیا گیا، جس سے جدید جنگی حالات میں اہداف کی نشاندہی اور نگرانی کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس کامیاب مظاہرے کی سب سے اہم خصوصیت پیسو سینسر ٹیکنالوجی کا موثر استعمال ہے۔ پیسو ریڈار روایتی ریڈارز کے برعکس خود کوئی سگنل خارج نہیں کرتے، جس کی وجہ سے دشمن کے الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز کے لیے ان کی موجودگی کا پتہ لگانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ ہین سولڈٹ کی ٹیکنالوجی نے فضائی حدود کی مکمل نگرانی کرتے ہوئے درست ڈیٹا فراہم کیا، جسے رائن میٹل کے کنٹرول اینڈ کمانڈ سسٹم نے فوری طور پر عمل میں لاتے ہوئے اپنے میزائل سسٹم کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔ یہ انضمام ثابت کرتا ہے کہ مستقبل کے فضائی دفاعی نظاموں میں پیسو سنسرز کی اہمیت کلیدی ہوگی۔ مشق کے دوران مختلف پیچیدہ فضائی حالات پیدا کیے گئے تاکہ سسٹم کی صلاحیتوں کو پرکھا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کامیاب انضمام سے جرمن فضائیہ اور دیگر اتحادی افواج کو ایک ایسا نیٹ ورکڈ ڈھانچہ فراہم ہو گا جو چھپے ہوئے اہداف، جیسے کہ ڈرونز اور سٹیلتھ طیاروں کو بھی بروقت دریافت کر سکے گا۔ رائن میٹل اور ہین سولڈٹ کے انجینئرز نے اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ نیٹ ورک سینٹرک وارفیئر (Network-centric warfare) کے اس دور میں ڈیٹا کا تبادلہ اور سینسرز کا اشتراک جنگی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔ اس کامیابی کے بعد اب توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے وقتوں میں اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر یورپی دفاعی نیٹ ورکس کا حصہ بنایا جائے گا۔ یہ پیش رفت نہ صرف دفاعی ٹیکنالوجی میں ایک بڑی تبدیلی ہے بلکہ یہ فضائی حدود کی حفاظت کو مزید ناقابل تسخیر بنانے کی جانب ایک بڑا قدم بھی ہے۔ جرمن حکام نے اس کامیاب مظاہرے کو دفاعی شعبے میں جدت پسندی کا ثبوت قرار دیا ہے، جو مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جرمنی کی تیاریوں کو مزید مستحکم کرے گا۔