Business
بھارت سنگاپور وزارتی مذاکرات: ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ میں تعاون
سنگاپور میں منعقدہ چوتھی انڈیا-سنگاپور وزارتی گول میز کانفرنس کے دوران دونوں ممالک نے جدید ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں شراکت داری بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ مذاکرات میں سیمی کنڈکٹرز اور اسٹریٹجک ٹیکنالوجیز کو ترقی دینے کے نئے مواقع کا جائزہ لیا گیا ہے۔
سنگاپور میں منعقدہ چوتھی انڈیا-سنگاپور وزارتی گول میز کانفرنس (ISMR) کے دوران دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تکنیکی تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں بھارت اور سنگاپور کے وزراء نے جدید مینوفیکچرنگ اور سٹریٹیجک ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں تعاون کے وسیع تر امکانات پر تفصیلی غور کیا۔ اس ملاقات کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری شراکت داری کو مزید مستحکم کرنا اور مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ٹیکنالوجی کے تبادلے کو فروغ دینا تھا۔
اجلاس کے دوران سیمی کنڈکٹرز، جو کہ جدید صنعتی دنیا کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں، پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔ دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سیمی کنڈکٹر کی عالمی سپلائی چین میں بھارت اور سنگاپور کا کردار اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ وزراء نے اس شعبے میں مشترکہ تحقیق، ترقی اور صنعتی سہولیات کی فراہمی کے لیے نئے مواقع کی نشاندہی کی، جس سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو ڈیجیٹل دور میں مزید مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ، جدید مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجیز کے استعمال سے صنعتی پیداوار کو بڑھانے اور اسے مزید موثر بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس وزارتی گول میز اجلاس میں اب تک کی پیش رفت کا جامع جائزہ لیا گیا اور آئندہ کے لائحہ عمل کی منظوری دی گئی۔ بھارتی وفد نے سنگاپور کے ساتھ ڈیجیٹلائزیشن اور پائیدار ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے تکنیکی مہارت کے اشتراک پر زور دیا۔ حکومتی سطح پر ہونے والی یہ بات چیت اس بات کی عکاس ہے کہ بھارت اپنی 'میک اِن انڈیا' مہم اور سیمی کنڈکٹر مشن کو آگے بڑھانے کے لیے عالمی سطح پر سنگاپور جیسے اسٹریٹجک پارٹنرز کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنے کا خواہاں ہے۔
آخر میں، دونوں فریقین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی یہ شراکت داری نہ صرف خطے کے لیے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک نئی مثال قائم کرے گی۔ اس کانفرنس کے نتائج سے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ آنے والے مہینوں میں مختلف تکنیکی معاہدوں پر عملی پیش رفت دیکھنے میں آئے گی، جس سے دونوں ممالک کے نوجوانوں کے لیے ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے اور صنعتی جدت طرازی کی نئی لہر آئے گی۔