World
ایران پر امریکی پابندیاں: چین کا سخت ردعمل اور عالمی تشویش
چین نے ایران پر عائد امریکی پابندیوں اور معاشی دباؤ کو مسئلہ کا حل قرار دینے سے انکار کر دیا ہے۔ بیجنگ کا موقف ہے کہ یکطرفہ پابندیاں خطے میں تناؤ کو کم کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان چین نے ایران کے خلاف امریکی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کی ہے۔ بیجنگ کی جانب سے جاری کردہ حالیہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ایران پر عائد کی جانے والی نئی امریکی پابندیاں اور معاشی دباؤ کسی بھی مسئلے کا پائیدار حل نہیں ہیں۔ چینی حکام کا ماننا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے ایران کی معاشی لائف لائنز کو منقطع کرنے کی دھمکیاں نہ صرف غیر قانونی ہیں بلکہ یہ خطے میں امن و امان کے قیام میں بھی بڑی رکاوٹ ثابت ہوں گی۔ چین ایران کا ایک اہم تجارتی شراکت دار ہے اور وہ امریکی دباؤ کے باوجود تہران کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات کو برقرار رکھنے کا حامی ہے۔
دوسری جانب، امریکہ کی جانب سے ایران کو معاشی طور پر الگ تھلگ کرنے کی دھمکیوں کے بعد تہران نے بھی سخت موقف اختیار کر لیا ہے۔ ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر ان پر معاشی دباؤ مزید بڑھایا گیا تو وہ 'تباہ کن' جوابی کارروائی کے لیے تیار ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف 'اکنامک ڈی ڈے' جیسی اصطلاحات اور دھمکیوں نے خطے کے سیاسی ماحول کو انتہائی گرم کر دیا ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی یہ حکمت عملی ایران کو مزید دیوار سے لگانے کے مترادف ہے، جس سے خطے میں ایک نئی جنگ کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
اس صورتحال میں مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک اور عالمی طاقتیں بھی فکرمند دکھائی دیتی ہیں۔ جہاں ایک طرف اسرائیل کی جانب سے لبنان اور دیگر علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں، وہیں ایران کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی کوششوں سے خطے کا استحکام داؤ پر لگا ہوا ہے۔ چین کا موقف ہے کہ تمام تر مسائل کا حل سفارت کاری اور بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے، نہ کہ طاقت کے استعمال یا پابندیوں کے ذریعے۔ بیجنگ نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی میں کمی لانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے اور یکطرفہ اقدامات کے خلاف آواز اٹھائے۔
مستقبل کے حوالے سے خدشات برقرار ہیں کہ آیا امریکہ اپنی موجودہ پالیسی پر قائم رہے گا یا عالمی دباؤ کے بعد اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لائے گا۔ تہران نے بارہا یہ باور کرایا ہے کہ وہ امریکی دھمکیوں کے سامنے جھکنے والا نہیں ہے اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ اس کشمکش میں چین کا ایران کی حمایت میں کھڑا ہونا امریکہ کے لیے ایک بڑی سفارتی رکاوٹ بن کر ابھرا ہے، جس سے مشرق وسطیٰ کے بحران میں بڑی طاقتوں کے مفادات کا ٹکراؤ مزید واضح ہو گیا ہے۔