LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف ترکی کا بڑا قدم، وارنٹ گرفتاری کا مطالبہ

News Image
ترکی نے غزہ میں انسانی امداد کے قافلے پر حملے اور مبینہ نسل کشی کے الزامات کے تحت اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف ریڈ نوٹس جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس اقدام کے بعد تل ابیب اور انقرہ کے درمیان سفارتی کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا ہے۔
ترکی نے ایک انتہائی اہم اور سفارتی نوعیت کے اقدام میں اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے خلاف بین الاقوامی وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا باضابطہ مطالبہ کر دیا ہے۔ یہ مطالبہ غزہ جانے والے انسانی امداد کے قافلے (فلوٹیلا) پر کیے گئے حملے اور اس کے بعد ہونے والی ہلاکتوں کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ ترک حکام کا موقف ہے کہ غزہ کی صورتحال میں ہونے والی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور اس ضمن میں نیتن یاہو کو احتساب کے کٹہرے میں لانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ انقرہ کا مطالبہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر 'ریڈ نوٹس' جاری کیا جائے تاکہ ذمہ داران کو ان کے اقدامات کا جوابدہ بنایا جا سکے۔ اس معاملے پر اسرائیل کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ نیتن یاہو کے دفتر نے ترک صدر رجب طیب اردگان پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں 'سام دشمن ڈکٹیٹر' قرار دیا ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ترکی کا یہ مطالبہ سراسر سیاسی اور تعصب پر مبنی ہے جس کا مقصد اسرائیل کے دفاعی حق کو نشانہ بنانا ہے۔ تل ابیب کے مطابق یہ بیان بازی سفارتی آداب کے منافی ہے اور خطے میں کشیدگی کو مزید ہوا دینے کا باعث بن رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات اس تازہ ترین پیش رفت کے بعد مزید تلخ ہو گئے ہیں۔ عالمی مبصرین کا ماننا ہے کہ ترکی کا یہ قدم مسلم دنیا اور مغربی دنیا کے درمیان غزہ کے تنازع پر بڑھتے ہوئے فاصلوں کی عکاسی کرتا ہے۔ ترکی، جو غزہ میں جاری فوجی کارروائیوں کا سخت ناقد رہا ہے، مسلسل یہ موقف اختیار کیے ہوئے ہے کہ اسرائیل غزہ میں 'نسل کشی' کا مرتکب ہو رہا ہے۔ ترک صدر اردگان نے متعدد بار عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا عالمی عدالتیں یا انٹرپول ترکی کے اس مطالبے پر کوئی قانونی کارروائی شروع کرتی ہیں یا یہ معاملہ صرف سفارتی بیان بازی تک محدود رہے گا۔ خطے کے بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے میں ترکی کا یہ اقدام عالمی سیاست میں ایک بڑی ہلچل کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اگرچہ بین الاقوامی قوانین کے تحت کسی موجودہ سربراہ حکومت کے خلاف وارنٹ گرفتاری کا اجراء ایک پیچیدہ عمل ہے، لیکن ترکی کا یہ مطالبہ اس بات کی علامت ہے کہ غزہ کے انسانی بحران پر اب دباؤ بڑھ رہا ہے۔ عالمی طاقتیں اس معاملے پر منقسم نظر آتی ہیں، جہاں ایک طرف ترکی جیسے ممالک اسرائیل پر دباؤ ڈال رہے ہیں، وہیں اسرائیل کے مغربی اتحادی اس صورتحال میں محتاط ردعمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔