LIVE
Loading Breaking News...

سونے کی قیمتوں میں اضافہ: عالمی منڈی میں نئی بلندیوں کا سفر

News Image
عالمی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں گراوٹ اور بانڈ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے باعث سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونے میں دلچسپی بڑھنے سے بلین مارکیٹ میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں جاری غیر یقینی صورتحال کے درمیان سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکی ڈالر کی قدر میں کمی اور بانڈ مارکیٹ میں جاری اتار چڑھاؤ نے سرمایہ کاروں کو ایک بار پھر سونے کی طرف راغب کر دیا ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق سونے کی قیمتوں نے تین ماہ کی بلند ترین سطح کو چھو لیا ہے، جس کی بنیادی وجہ سرمایہ کاروں کا روایتی محفوظ اثاثوں کی جانب جھکاؤ ہے۔ مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ قرض کے خدشات اور امریکی ٹریژری کی نقل و حرکت نے سونے کی طلب کو مزید تقویت دی ہے۔ امریکی ڈالر کا انڈیکس 99 کی سطح سے نیچے آنے کے بعد سونے اور چاندی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق جب ڈالر کی قدر میں کمی آتی ہے تو بین الاقوامی مارکیٹ میں سونا دیگر کرنسی رکھنے والے سرمایہ کاروں کے لیے سستا ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں اس کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ افراط زر کے بڑھتے ہوئے خدشات اور حقیقی شرح سود میں کمی کی امیدیں بھی سونے کی تیزی کے پیچھے اہم عوامل کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ حالانکہ مارکیٹ میں کچھ اتار چڑھاؤ موجود ہے، لیکن مجموعی طور پر بلین مارکیٹ میں تیزی کا رجحان برقرار ہے۔ اس وقت سونے کی قیمت 4600 ڈالر فی اونس کے قریب پہنچ چکی ہے، جو کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران سب سے زیادہ ہے۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے جاری بائ بیک (buyback) رجحان نے بھی اس تیزی کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگرچہ بانڈ مارکیٹ میں ہلچل اور معاشی پالیسیوں کے حوالے سے خدشات بدستور موجود ہیں، لیکن سونے نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ غیر یقینی معاشی حالات میں یہ سرمایہ کاری کا سب سے محفوظ ذریعہ ہے۔ آنے والے دنوں میں مرکزی بینکوں کے فیصلوں اور عالمی اقتصادی اعداد و شمار سونے کی قیمتوں کے مستقبل کا تعین کریں گے۔