LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان

News Image
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے جس کے بعد پیٹرول اور ڈیزل دونوں مہنگے ہو گئے ہیں۔ اس اقدام سے ملک بھر میں ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
وفاقی حکومت نے ایک بار پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈال دیا ہے۔ نئی قیمتوں کے نفاذ کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے اثرات فوری طور پر ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی منڈیوں پر مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ اضافہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور روپے کی گرتی ہوئی قدر کے پیش نظر کیا گیا ہے تاکہ مالیاتی استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ملک بھر میں ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کا مہنگا ہونا براہ راست ہر چیز کی قیمت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ خاص طور پر مال بردار گاڑیوں کے اخراجات بڑھنے سے سبزیوں، پھلوں اور دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے مزید دور ہو جائیں گی۔ دیہاڑی دار طبقہ اور تنخواہ دار افراد اس فیصلے سے شدید پریشان ہیں کیونکہ ان کی قوت خرید پہلے ہی مہنگائی کے باعث انتہائی محدود ہو چکی ہے۔ دوسری جانب عوامی حلقوں اور اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے اس اقدام کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی بجلی، گیس اور کھانے پینے کی بنیادی چیزیں مہنگی ہو چکی ہیں، اب ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے گھر کا بجٹ بری طرح درہم برہم کر دیا ہے۔ حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ براہ راست عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے متبادل ذرائع تلاش کرتی اور ٹیکسوں میں کمی کے ذریعے عوام کو ریلیف فراہم کرتی۔ حکومت نے اپنے بیان میں وضاحت کی ہے کہ قیمتوں کا تعین اوگرا کی سفارشات اور عالمی مارکیٹ کے تحت کیا جاتا ہے۔ تاہم، عوام کے لیے یہ دلیل تسلی بخش نہیں ہے کیونکہ معاشی بحران کے اس دور میں ہر نیا اضافہ ان کی زندگی کو مزید کٹھن بنا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی اس نئی قیمتوں کے اثرات مہنگائی کی شرح میں مزید اضافے کی صورت میں سامنے آئیں گے، جس سے ملکی معیشت کے لیے چیلنجز مزید بڑھ سکتے ہیں۔