Technology
17 سالہ طالب علم کا کمال، اے آئی ٹول کے ذریعے آٹزم کی فوری تشخیص
امریکہ کے 17 سالہ طالب علم ایڈورڈ کانگ نے ایک ایسا آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹول تیار کیا ہے جو آنکھ کے ریٹنا کا تجزیہ کر کے آٹزم اور اے ڈی ایچ ڈی کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ اس شاندار ایجاد پر انہیں ریجینیرون سائنس ٹیلنٹ سرچ میں 1 لاکھ 75 ہزار ڈالر کا انعام دیا گیا ہے۔
نیو جرسی سے تعلق رکھنے والے 17 سالہ ہائی اسکول کے طالب علم ایڈورڈ کانگ نے میڈیکل ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک ایسی انقلابی پیش رفت کی ہے جس نے عالمی سطح پر ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔ ایڈورڈ نے 'ریٹنا مائنڈ' (RetinaMind) نامی ایک جدید مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ٹول تیار کیا ہے جو انسانی آنکھ کے ریٹنا کی تصاویر کا گہرائی سے تجزیہ کرکے نیورولوجیکل عوارض جیسے کہ آٹزم (Autism) اور اے ڈی ایچ ڈی (ADHD) کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ اختراع طبی تشخیص کے شعبے میں ایک بڑی کامیابی سمجھی جا رہی ہے کیونکہ یہ پیچیدہ بیماریوں کو ابتدائی مراحل میں پکڑنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
ایڈورڈ کانگ کی اس شاندار تحقیق اور ایجاد کو 2026 کی معروف 'ریجینیرون سائنس ٹیلنٹ سرچ' (Regeneron Science Talent Search) میں نہ صرف سراہا گیا بلکہ انہیں 1 لاکھ 75 ہزار ڈالر کی خطیر رقم بطور انعام دی گئی۔ ریجینیرون مقابلہ امریکہ کے باصلاحیت نوجوان سائنسدانوں کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے، جہاں دنیا بھر کے ماہرین نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہیں۔ ایڈورڈ کی یہ ٹیکنالوجی ریٹنا میں موجود ان باریک پیٹرنز کو پڑھ سکتی ہے جو عام انسانی آنکھ یا روایتی طبی آلات کی پہنچ سے دور ہوتے ہیں۔
اس ایجاد کے طبی فوائد پر بات کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ آٹزم اور اے ڈی ایچ ڈی کی تشخیص کے موجودہ طریقے کافی وقت طلب اور پیچیدہ ہیں۔ ایڈورڈ کا تیار کردہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس ماڈل اس عمل کو نہ صرف تیز تر بنائے گا بلکہ یہ تشخیص کی درستگی میں بھی اضافہ کرے گا۔ ریٹنا مائنڈ کے ذریعے اب والدین اور ڈاکٹرز بہت کم وقت میں بچوں کی دماغی صحت کے حوالے سے اہم معلومات حاصل کر سکیں گے، جس سے بروقت علاج کی راہ ہموار ہوگی۔
اپنی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ایڈورڈ کانگ نے کہا کہ ان کا مقصد ٹیکنالوجی کے ذریعے انسانی صحت کے مسائل کو حل کرنا ہے۔ ان کا یہ پروجیکٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نوجوان نسل کو درست سائنسی وسائل اور رہنمائی میسر ہو تو وہ دنیا کو درپیش بڑے طبی چیلنجز کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ ایڈورڈ کے اس اقدام کو تعلیمی اور سائنسی حلقوں میں بے حد پذیرائی ملی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں یہ ٹول عالمی سطح پر ہسپتالوں اور کلینکس میں استعمال کیا جائے گا۔