LIVE
Loading Breaking News...

ایئرپورٹ پر مسافروں کے تجربے کو کیسے بہتر بنایا جائے

News Image
ایئرپورٹ پر مسافروں کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے نظریاتی اور عملی اقدامات میں توازن انتہائی ضروری ہے۔ مسافروں کی بڑھتی ہوئی توقعات کو پورا کرنے کے لیے ایئرپورٹ انتظامیہ کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
ایوی ایشن انڈسٹری میں ایئرپورٹ کسٹمر ایکسپیرینس ایک ایسا شعبہ بن چکا ہے جو تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ کئی دہائیوں کے تجربات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایئرپورٹ پر مسافروں کے لیے فراہم کردہ سہولیات اور ان کی توقعات کے درمیان ایک واضح فرق پایا جاتا ہے۔ نظریہ یہ ہے کہ مسافروں کو مرکز میں رکھ کر تمام خدمات ڈیزائن کی جائیں، لیکن عملی طور پر ایئرپورٹ انتظامیہ کو تکنیکی، لاجسٹک اور حفاظتی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو مسافروں کے تجربے کو متاثر کرتی ہیں۔ اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کافی نہیں ہے، بلکہ مسافروں کے رویے اور ضروریات کو گہرائی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ نظریاتی سطح پر ایئرپورٹ انتظامیہ کسٹمر سینٹرک اپروچ کی بات کرتی ہے جس کا مطلب ہے کہ مسافروں کے سفر کے ہر مرحلے کو آسان اور آرام دہ بنایا جائے۔ تاہم، حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر ایئرپورٹس پر بھیڑ، چیک ان کے طویل عمل اور سیکیورٹی کی سختیوں کی وجہ سے مسافروں کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان دونوں کے درمیان جو خلا ہے اسے پُر کرنے کے لیے ایئرپورٹ انتظامیہ کو اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لانی ہوگی۔ مسافر اب صرف ایک پرواز کے انتظار میں نہیں بیٹھتے بلکہ وہ ایک ایسے ماحول کے متلاشی ہوتے ہیں جہاں انہیں سہولت، رفتار اور عزت دی جائے۔ اگر ایئرپورٹ انتظامیہ نظریات کو عملی جامہ پہنانے میں سنجیدہ ہے تو انہیں فیڈ بیک پر مبنی سسٹم کو مضبوط بنانا ہوگا۔ مستقبل میں ایئرپورٹ کسٹمر ایکسپیرینس کا دارومدار ڈیجیٹلائزیشن اور پرسنلائزڈ سروسز پر ہوگا۔ ایئرپورٹس کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر مسافر کی ضروریات مختلف ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر، کاروباری دورے پر جانے والے مسافر کو تیز رفتار انٹرنیٹ اور پرسکون ورک اسپیس کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ فیملی کے ساتھ سفر کرنے والے مسافروں کو بچوں کے لیے سہولیات اور بیٹھنے کی آرام دہ جگہوں کی تلاش ہوتی ہے۔ نظریے سے حقیقت کی طرف منتقلی کے لیے ڈیٹا کا درست تجزیہ اور اس پر فوری عمل درآمد بہت ضروری ہے۔ صرف تب ہی ایئرپورٹس ایک ایسا تجربہ فراہم کر سکیں گے جو مسافروں کو بار بار وہاں آنے پر مجبور کرے۔ آخر میں، یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایئرپورٹ انتظامیہ کو اپنے عملے کو تربیت دینے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ چاہے سسٹم کتنا ہی جدید کیوں نہ ہو، لیکن انسانی رویہ ہی کسٹمر کے تجربے کو یادگار بناتا ہے۔ عملے کا دوستانہ رویہ اور مسائل کو فوری حل کرنے کی صلاحیت نظریاتی اہداف کو عملی شکل دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ایئرپورٹ انتظامیہ کو اب فرسودہ طریقوں کو چھوڑ کر مسافروں کی توقعات کے مطابق اپنی خدمات کو ترتیب دینا ہوگا تاکہ ایوی ایشن انڈسٹری میں مسابقت برقرار رہ سکے۔