Technology
سین ڈسک کی انقلابی 3D Matrix میموری ٹیکنالوجی
سین ڈسک نے اپنی تجرباتی تھری ڈی میٹریکس میموری چپس کے پہلے پروٹوٹائپ تیار کر لیے ہیں جو ڈی ریم کے مقابلے میں نصف قیمت پر زیادہ صلاحیت فراہم کریں گے۔ اس نئی ٹیکنالوجی کی تجارتی پیمانے پر دستیابی میں ابھی چند سال کا عرصہ درکار ہے۔
مشہور ٹیکنالوجی کمپنی سین ڈسک نے میموری سٹوریج کی دنیا میں ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے اپنی تجرباتی 'تھری ڈی میٹریکس میموری' (3D Matrix Memory) چپس کے پہلے پروٹوٹائپ کامیابی سے تیار کر لیے ہیں۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق یہ چپس 300 ملی میٹر کے ویفرز پر تیار کیے گئے ہیں، جو مستقبل میں ڈیٹا سٹوریج کی رفتار اور لاگت کے حوالے سے نئے معیارات قائم کر سکتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی کمپیوٹنگ کی دنیا میں ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا فائدہ اس کی لاگت میں کمی ہے۔ سین ڈسک کا دعویٰ ہے کہ یہ چپس فی بٹ لاگت کو نصف تک کم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے مستقبل کے آلات کی پیداواری قیمت میں نمایاں کمی آئے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ، یہ ٹیکنالوجی ڈی ریم (DRAM) کے مقابلے میں چار گنا زیادہ صلاحیت فراہم کرنے کی اہلیت رکھتی ہے، جس سے ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ اور سرورز کو بے پناہ فائدہ پہنچے گا۔ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی کارکردگی کے لحاظ سے انتہائی متاثر کن دکھائی دیتی ہے، لیکن کمپنی نے واضح کیا ہے کہ اس کی تجارتی سطح پر بڑے پیمانے پر تیاری اور مارکیٹ میں دستیابی میں ابھی چند سال کا وقت باقی ہے۔ فی الحال، یہ ایک پروٹوٹائپ مرحلے پر ہے اور انجینئرز اس کی پائیداری اور فعالیت کو بہتر بنانے کے لیے مزید تحقیق کر رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ میموری مارکیٹ میں جاری مقابلہ اب نئی جہتیں اختیار کر چکا ہے۔ سین ڈسک کی یہ کوشش نہ صرف ڈی ریم کے متبادل کے طور پر دیکھی جا رہی ہے بلکہ یہ ڈیٹا سینٹرز اور جدید ترین الیکٹرانک آلات میں سٹوریج کے مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ دنیا بھر کے ٹیک ماہرین اس پیش رفت پر نظریں جمائے ہوئے ہیں، کیونکہ اگر یہ ٹیکنالوجی کامیاب ہوتی ہے تو ہم مستقبل قریب میں مزید طاقتور اور سستے کمپیوٹرز اور اسمارٹ فونز دیکھ سکیں گے۔