Technology
سبز امونیا کی تیاری میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال
ایم آئی ٹی کے محققین نے ایک ایسا کمپیوٹیشنل طریقہ وضع کیا ہے جس سے امونیا کی تیاری کے لیے زیادہ پائیدار اور ماحول دوست کیٹلسٹ کا انتخاب ممکن ہو سکے گا۔ یہ پیش رفت عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں نمایاں کمی لانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
امونیا دنیا بھر میں زرعی شعبے کے لیے کھاد کی فراہمی میں ایک بنیادی اور کلیدی حیثیت رکھتی ہے، تاہم اس کی روایتی پیداواری عمل ماحولیات کے لیے سنگین خطرات کا باعث بنتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، امونیا کی عالمی پیداوار کے دوران ہونے والا عمل دنیا بھر کے کل گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا تقریباً ڈیڑھ فیصد حصہ بنتا ہے۔ اس ماحولیاتی بوجھ کو کم کرنے کے لیے میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) کے ماہرین نے ایک اہم سائنسی پیش رفت کی ہے۔ پروفیسر بلگے یلدز اور ان کے رفقائے کار نے ایک ایسا جدید کمپیوٹیشنل طریقہ کار تیار کیا ہے جو ایسے کیٹلسٹ میٹریلز کی نشاندہی کر سکتا ہے جو مستقبل میں امونیا کی تیاری کے عمل کو نہ صرف آسان بلکہ ماحول دوست بھی بنا سکیں گے۔
اس تحقیق کا مرکزی نکتہ کیٹلسٹ کی افادیت کو بہتر بنانا ہے۔ محققین کی جانب سے وضع کردہ یہ نیا کمپیوٹیشنل ماڈل ان خاص دھاتوں اور مرکبات کا درست انتخاب کرنے میں مدد دیتا ہے جو امونیا کی پیداوار کے دوران توانائی کی کھپت کو کم کرنے اور نقصان دہ اخراج میں کمی لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس طریقہ کار کے ذریعے محققین نے کیٹلیٹک عمل کی گہرائی کو سمجھنے اور اسے بہتر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت اور کمپیوٹیشنل طاقت کا استعمال کیا ہے۔ یہ پیش رفت صنعت کاروں کو اس قابل بنائے گی کہ وہ کم قیمت اور زیادہ پائیدار طریقے سے امونیا تیار کر سکیں، جو کہ عالمی غذائی تحفظ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
اگرچہ امونیا کی صنعت طویل عرصے سے روایتی طریقوں پر منحصر رہی ہے، لیکن سبز توانائی اور ماحول دوست ٹیکنالوجیز کی جانب عالمی منتقلی کے پیش نظر یہ نئی تحقیق ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو صنعتی پیمانے پر نافذ کیا جائے تو کھاد کی صنعت سے ہونے والے ماحولیاتی نقصانات کو کافی حد تک قابو کیا جا سکتا ہے۔ یہ تحقیق نہ صرف سائنسدانوں کے لیے ایک نئی راہ کھولتی ہے بلکہ عالمی صنعتوں کو بھی کاربن نیوٹرل ہونے کے اہداف حاصل کرنے میں مدد دے گی۔ آنے والے دنوں میں، جیسے جیسے یہ کمپیوٹیشنل طریقہ مزید بہتر ہوگا، یہ توقع کی جا رہی ہے کہ سبز امونیا کی تیاری سستی اور عام دستیابی کے قابل ہو جائے گی۔