World
جادو پور یونیورسٹی تصادم: طلبہ تنظیموں میں لڑائی اور کیمپس سیل
بھارت کی جادو پور یونیورسٹی میں طلبہ تنظیموں ایس ایف آئی اور اے بی وی پی کے درمیان تصادم کے نتیجے میں 20 طلبہ زخمی ہو گئے۔ پرتشدد واقعات کے بعد انتظامیہ نے یونیورسٹی کیمپس کو سیل کر کے سکیورٹی سخت کر دی ہے۔
بھارت کے شہر کولکتہ میں واقع معروف جادو پور یونیورسٹی اس وقت شدید کشیدگی کی لپیٹ میں ہے جب گزشتہ شب طلبہ تنظیموں کے مابین ہونے والے پرتشدد تصادم نے پورے کیمپس کو ہلا کر رکھ دیا۔ اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ بدھ کی رات انجینئرنگ فیکلٹی کی ایک جنرل باڈی میٹنگ کے دوران پیش آیا، جہاں سٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (SFI) اور اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (ABVP) کے کارکنان کے درمیان تلخ کلامی نے شدت اختیار کر لی اور معاملہ ہاتھا پائی اور مار پیٹ تک جا پہنچا۔ اس پرتشدد تصادم کے نتیجے میں کم از کم 20 طلبہ زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔
واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے جادو پور یونیورسٹی انتظامیہ نے فوری طور پر کیمپس کو سیل کر دیا ہے اور یونیورسٹی کے داخلی و خارجی راستوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ یونیورسٹی حکام نے پورے کیمپس میں سخت سکیورٹی کے انتظامات کیے ہیں تاکہ مزید کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکا جا سکے۔ تاحال یونیورسٹی میں تعلیمی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں اور انتظامیہ نے معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کے قیام پر بھی غور شروع کر دیا ہے۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ حالات اب قابو میں ہیں تاہم کیمپس کے اندر ماحول تاحال کشیدہ ہے۔ دونوں طلبہ تنظیموں کی جانب سے ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ ایس ایف آئی کا دعویٰ ہے کہ اے بی وی پی کے کارکنان نے منظم طریقے سے منصوبہ بندی کر کے حملہ کیا، جبکہ اے بی وی پی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے الٹا ایس ایف آئی پر یونیورسٹی کے پرسکون ماحول کو خراب کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ انتظامیہ نے طلبہ سے اپیل کی ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھیں اور یونیورسٹی کے ضابطہ اخلاق کی پابندی کریں۔
واضح رہے کہ جادو پور یونیورسٹی ماضی میں بھی مختلف سیاسی اور طلبہ تنظیموں کے درمیان ہونے والی کشیدگی کے حوالے سے خبروں میں رہتی ہے۔ تاہم گزشتہ شب ہونے والے اس تصادم نے طلبہ برادری میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ یونیورسٹی کے اساتذہ اور والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ داروں کا تعین کر کے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ تعلیمی اداروں میں تشدد کے کلچر کا خاتمہ ممکن ہو سکے اور طلبہ ایک پرامن تعلیمی ماحول میں تعلیم حاصل کر سکیں۔