LIVE
Loading Breaking News...

میٹا کی پالیسیوں پر حکومتی تحفظات: مواد کی نگرانی میں انسانی مداخلت ضروری

News Image
حکومتِ پاکستان نے میٹا سے مطالبہ کیا ہے کہ مواد کو ہٹانے کے لیے صرف آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر انحصار نہ کیا جائے اور انسانی نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔ حکام کے مطابق کی ورڈز پر مبنی خودکار سسٹم کی وجہ سے کئی جائز اور اہم پوسٹس بلاوجہ ڈیلیٹ ہو رہی ہیں۔
حکومت نے میٹا (فیس بک، انسٹاگرام) انتظامیہ کو واضح طور پر ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز پر مواد کو ہٹانے یا محدود کرنے کے لیے صرف مصنوعی ذہانت (AI) اور خودکار سسٹم پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے انسانی نگرانی کے عمل کو شامل کریں۔ حکومتی حکام کی جانب سے جاری کردہ انتباہ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ کی ورڈز پر مبنی ٹیکنالوجی اکثر سیاق و سباق کو سمجھے بغیر جائز پوسٹس اور اہم مواد کو بلاوجہ ڈیلیٹ کر دیتی ہے، جو صارفین کے اظہار رائے کی آزادی کو متاثر کر رہا ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس انسانی حساسیت، ثقافتی باریکیوں اور سیاسی پس منظر کو سمجھنے سے قاصر ہے، جس کی وجہ سے کئی بار اہم عوامی گفتگو کو بھی سنسرشپ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میٹا کی جانب سے استعمال کیے جانے والے جدید الگورتھمز میں خودکار 'ٹیک ڈاؤن' کے عمل کو گزشتہ کچھ عرصے سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تکنیکی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سسٹم اکثر ایسے الفاظ کو بھی ہدف بناتا ہے جو عام گفتگو کا حصہ ہوتے ہیں مگر کسی خاص تناظر میں انہیں ممنوعہ قرار دیا جاتا ہے۔ حکومت نے مطالبہ کیا ہے کہ ہر ایسے کیس میں جہاں مواد کو حذف کیا جائے، وہاں ایک انسانی ٹیم کا جائزہ لازمی ہونا چاہیے تاکہ کسی بھی غلطی یا غیر ضروری پابندی سے بچا جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر شفافیت کو بہتر بنانا اور صارفین کو بلاجواز اکاؤنٹس معطلی یا مواد ہٹائے جانے جیسے مسائل سے نجات دلانا ہے۔ دوسری جانب، میٹا نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے اپنے سسٹم کی افادیت کا دفاع کیا ہے، لیکن ساتھ ہی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا ہے۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ میٹا کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں پوسٹس کا تجزیہ کرنا انسانی افرادی قوت کے لیے تقریباً ناممکن ہے۔ تاہم، حکومت کا موقف ہے کہ جب تک مصنوعی ذہانت پوری طرح سے درست نہیں ہو جاتی، تب تک انسانی نگرانی کا عمل لازمی ہونا چاہیے تاکہ معلومات کی درست ترسیل اور ڈیجیٹل حقوق کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ میٹا اپنی پالیسیوں میں کتنی تبدیلی لاتا ہے اور کیا وہ اپنی خودکار ٹیکنالوجی میں انسانی مداخلت کو شامل کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے یا نہیں۔