World
امریکی معاشی پابندیوں کا اثر: ایران سے زیادہ امریکی منڈیاں متاثر
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف معاشی پابندیوں کی دھمکیوں کے بعد عالمی منڈیوں میں شدید بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔ چین سمیت متعدد ممالک نے امریکی پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے اسے عالمی تجارت کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف 'معاشی ڈی ڈے' یعنی معاشی ناکہ بندی کے سخت اعلانات نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ٹرمپ کا موقف ہے کہ ایران کو تنہا کرنے کے لیے اس کی معاشی شہ رگ کاٹ دی جائے گی، تاہم اس حکمت عملی کا ابتدائی شکار تہران کے بجائے خود امریکی مالیاتی منڈیاں بنتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی دھمکیوں کے بعد سرمایہ کاروں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے جس کے نتیجے میں عالمی اسٹاک مارکیٹس غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔
اس معاملے پر چین نے امریکی موقف کو دو ٹوک الفاظ میں مسترد کر دیا ہے۔ چین، جو کہ ایران کا ایک بڑا تجارتی شراکت دار ہے، نے واشنگٹن کی جانب سے عائد کی جانے والی یکطرفہ پابندیوں کو عالمی تجارت کے اصولوں کے منافی قرار دیا ہے۔ بیجنگ کا کہنا ہے کہ وہ آزادانہ تجارت پر کسی بھی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ٹرمپ کی اقتصادی پالیسیاں عالمی طاقتوں کے درمیان ایک نئی تجارتی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
دوسری جانب، ایران نے بھی امریکی دھمکیوں کا منہ توڑ جواب دینے کا عزم کیا ہے۔ تہران کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ اگر امریکی معاشی جارحیت کو جاری رکھا گیا تو اس کے 'تباہ کن' نتائج برآمد ہوں گے۔ خطے میں پہلے سے موجود تناؤ میں اس نئی کشیدگی نے مشرق وسطیٰ کی سیاست کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اسرائیلی حملوں اور امریکی پابندیوں کے درمیان ایران کی جانب سے سخت ردعمل کے اعلانات نے عالمی تیل کی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ پیدا کر دیا ہے، جو پہلے ہی عالمی معاشی بحران کی لپیٹ میں ہیں۔
مجموعی طور پر، ماہرین اقتصادیات کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی یہ 'معاشی ڈی ڈے' حکمت عملی امریکہ کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی عالمی تجارت میں بلاک بندی کی کوشش کی گئی ہے، اس کا اثر عالمی جی ڈی پی پر منفی پڑا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا واشنگٹن اپنی معاشی پالیسیوں میں کوئی لچک دکھاتا ہے یا پھر یہ تنازعہ عالمی معیشت کو مزید گہرے بحران کی طرف دھکیل دے گا۔ فی الحال، امریکی منڈیوں میں مندی کا رجحان اس بات کی غمازی کر رہا ہے کہ سرمایہ کار اس غیر یقینی صورتحال سے خوفزدہ ہیں۔