World
ایران جنگ اور ایل این جی کی قیمتیں: عالمی توانائی مارکیٹ کا جائزہ
ماہرین کے مطابق ایران کے ساتھ جاری تنازع اگر طول پکڑ گیا تو اس کے نتیجے میں مائع قدرتی گیس یعنی ایل این جی کی اسپاٹ قیمتیں طویل مدت تک اونچی سطح پر رہ سکتی ہیں۔ اس صورتحال سے عالمی توانائی کی مارکیٹ اور صارفین پر شدید مالی دباؤ پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
عالمی توانائی کے شعبے میں جاری کشیدگی کے درمیان ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ جاری تنازع طویل ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں مائع قدرتی گیس یعنی ایل این جی (LNG) کی اسپاٹ قیمتیں طویل عرصے تک بلند ترین سطح پر برقرار رہ سکتی ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی کے بڑھتے ہوئے خدشات اور اہم بحری گزرگاہوں بالخصوص آبنائے ہرمز میں ممکنہ رکاوٹوں نے عالمی منڈی میں توانائی کی رس رسد کے حوالے سے شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس خطے سے دنیا بھر کو تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے، اور کسی بھی قسم کی طویل جنگ اس سپلائی چین کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسپاٹ ایل این جی کی قیمتوں میں اضافے سے نہ صرف صنعتی شعبے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ عام صارفین کے لیے بھی گیس اور بجلی کے نرخوں میں ہوشربا اضافہ ہو سکتا ہے۔ یورپ اور ایشیا کے وہ ممالک جو اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بڑی حد تک درآمد شدہ ایل این جی پر انحصار کرتے ہیں، اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ سردیوں کے موسم کی آمد کے ساتھ ہی گیس کی طلب میں روایتی طور پر اضافہ ہو جاتا ہے، اور ایسے وقت میں قیمتوں کا بلند رہنا معاشی بحالی کے عمل کو سست کر سکتا ہے۔
حکومتیں اور توانائی سے وابستہ ادارے اس ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے متبادل ذرائع اور حکمت عملیوں پر غور کر رہے ہیں تاکہ قیمتوں کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ تاہم، قلیل مدت میں مشرق وسطیٰ کے بحران کا کوئی پائیدار حل نظر نہ آنے کی وجہ سے مارکیٹ میں غیر یقینی کی صورتحال بدستور برقرار ہے۔ معاشی ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر سفارتی کوششیں تیز کی جائیں تاکہ تنازع کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے اور عالمی معیشت کو ایک اور بڑے توانائی بحران سے بچایا جا سکے۔